
میرا ایک دوست فروٹ بیچنے اور خریدنے کا کام کرتا تھا۔ اس نے مجھے کہا کہ فروٹ کا کام آیا ہوا ہے، اگر پیسے ہیں تو لگاؤ۔ اب مجھے یاد نہیں کہ میں نے خود پیسے دیے تھے یا اس نے مانگے تھے۔
میں نے اس کو یک مشت سات لاکھ روپے دیے۔ ہم نے نفع اور نقصان متعین نہیں کیا تھا کہ کتنا فیصد ہوگا۔ اس نے صرف یہ بولا کہ نفع میں سے جو مناسب ہوگا، میں آپ کو دیا کروں گا۔
پرافٹ ملنے کے وقت اس نے مجھے بتایا کہ پیسے ڈوب گئے، جس کے پاس میں نے لگائے تھے وہ پیسے لے کر بھاگ گیا۔ مگر اس نے مجھے بولا کہ پریشان مت ہو، آپ کو پیسے مل جائیں گے۔ اور تھوڑے تھوڑے کرکے مجھے پیسے دیتا بھی رہا، جو ٹوٹل 330000 (تین لاکھ تیس ہزار) روپے بنتے ہیں، جو اس نے اب تک مجھے دیے ہیں۔ اور میری بقایا رقم 370000 (تین لاکھ ستر ہزار) روپے باقی ہے۔
میں نے اس کو کہا کہ میں نے سات لاکھ روپے تو انویسٹ کیے تھے، میں آپ کے نقصان کا ذمہ دار نہیں ہوں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا وہ میری کل رقم واپس کرنے کا پابند نہیں ہے؟ شرعی طور پر کیا حکم ہے؟
وضاحت:
سائل کے دوست نے جو آگے کسی دوسرے کے پاس پیسے لگائے تھے، وہ سائل کی اجازت کے بغیر لگائے تھے، اور سائل کو اس کی معلومات نہیں تھی۔ انہوں نے آگے کسی دوسرے مضارب کے ساتھ پیسے لگائے تھے۔ منافع ملنے کے وقت انہوں نے بتایا کہ جس شخص کے ساتھ پیسے لگائے تھے، وہ پیسے لے کر بھاگ گیا ہے۔
واضح رہے کہ نفع و نقصان کی تعیین کے بغیر کسی کو سرمایہ کاری کے لیے رقم دینا، جبکہ صرف یہ کہا جائے کہ نفع میں سے جو مناسب ہوگا، میں آپ کو دے دوں گا، شرعا مضاربت فاسدہ ہے۔
مضاربت فاسدہ میں اگر مضارب کے پاس مال ہلاک ہوجائے اور اس کی طرف سے تعدی یا کوتاہی ثابت نہ ہو تو اس کا ضمان مضارب پر نہیں آتا، کیونکہ مضارب امین ہوتا ہے، بلکہ نقصان رب المال (سرمایہ دینے والے) کے ذمہ ہوتا ہے، البتہ مضارب اپنے کام کی اُجرت مثل کا مستحق ہوتا ہے۔
لیکن صورت مسئولہ میں سائل کے ساتھی نے محض مضارب ہونے کی حیثیت سے رقم وصول کی تھی، پھر سائل کی اجازت کے بغیر وہ رقم آگے کسی دوسرے شخص کے پاس مضاربت کے طور پر لگا دی۔ یہ عمل حدود مضاربت سے تجاوز اور تعدی کے زمرے میں آتا ہے۔ لہٰذا جب وہ رقم ضائع ہوگئی یا دوسرا شخص رقم لے کر فرار ہوگیا تو اس نقصان کا ذمہ سائل کے ساتھی پر عائد ہوگا۔ چنانچہ سائل اپنے ساتھی سے سات لاکھ روپے اصل سرمایہ کی واپسی کا مطالبہ کرنے کا حق رکھتا ہے، اور ساتھی بعد میں اس شخص سے رجوع کرسکتا ہے جس کے پاس اس نے رقم لگائی تھی۔
فتاوی ہندیہ میں ہے۔
"ولو دفع إليه مضاربة على أن يعطي المضارب رب المال ما شاء من الربح فهذه مضاربة فاسدة كذا في المبسوط."
(کتاب المضاربة، الباب الثاني فيما يجوز من المضاربة من غير تسمية الربح، ج: 4، ص: 288، ط: دارالفکر بیروت)
البحرالرائق میں ہے"
"ولو استهلك الثاني المال أو وهبه كان الضمان عليه دون الأول وإذا عمل الثاني خير رب المال إن شاء ضمن الأول رأس ماله وإن شاء ضمن الثاني وإن اختار رب المال أن يأخذ الربح ولا يضمن ليس له ذلك كذا في المبسوط."
(كتاب المضاربة، باب المضارب يضارب، ج: 5، ص: 653، ط: دارالکتب الاسلامی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144712100827
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن