
کیاضلعی سرکاری رویت ہلال کمیٹی مرکزی رویت ہلال کمیٹی سے پہلے روزہ اور عید کا اعلان کر سکتی ہے؟ اور اگر اعلان کر دےتو ضلع کے لوگوں کا اس اعلان پر عمل کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
کسی ضلع میں اگرحکومت کی طرف سے مقرر کردہ کمیٹی پورے ضلع یا صوبے یا پورے ملک کے لیے ہو اور وہ شرعی شہادت موصول ہونے پر چاند نظر آنے کا اعلان کردے تو اس کے فیصلے پر اپنی حدود اور ولایت میں ان لوگوں پرجن تک فیصلہ اور اعلان یقینی اور معتبر ذریعے سے پہنچ جائے عمل کرنا واجب ہوگا۔
نیل الأوطار میں ہے:
"وثانيها: أنه لايلزم أهل بلد رؤية غيرهم إلا أن يثبت ذلك عند الإمام الأعظم فيلزم كلهم؛ لأن البلاد في حقه كالبلد الواحد إذ حكمه نافذ في الجميع، قاله ابن الماجشون".
(4 / 230، باب الهلال إذا رآه أهل بلدة هل يلزم بقية البلاد الصوم، ط؛ دار الحديث، مصر)
فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:
"الفتاوی النسفیة: سئل عن قضاء القاضي برؤیة هلال شهر رمضان بشهادة شاهدین عند الاشتباه في مصر، هل یجوز لأهل مصر آخر العمل بحکمهم؟ فقال:لا، ولایکون مصرآخر تبعاً لهذا المصر، إنما سکان هذا المصر وقراها یکون تبعاً لهم".
(3/365، کتاب الصوم، الفصل :2، رؤیۃ الہلال، ط؛ زکریا ، دیوبند)
حضرت مولانا مفتی محمود ؒ ”زبدۃالمقال فی رؤیۃالھلال“ میں تحریر فرماتےہیں:
إذا ثبت الصوم أو الفطر عند حاکم تحت قواعد الشرع بفتوی العلماء أو عند واحد أو جماعة من العلماء الثقات ولاّهم رئیس المملکة أمر رؤیة الهلال، وحکموا بالصوم أو الفطر ونشروا حکمهم هذا في رادیو، یلزم علی من سمعها من المسلمین العمل به في حدود ولایتهم، وأما فیما وراء حدود ولایتهم فلا بد من الثبوت عند حاکم تلک الولایة بشهادة شاهدین علی الرؤیة أو علی الشهادة أو علی حکم الحاکم أو جاء الخبر مستفیضاً، لأن حکم الحاکم نافذ في ولایته دون ما وراءها".
(زبدة المقال في رؤیة الهلال، بحواله خیر الفتاوی، 4/118، ط؛ مکتبة الخیر ملتان)
جواہر الفقہ میں ہے:
’’اور جس طرح ایک شہر کے قاضی یا ہلال کمیٹی کا فیصلہ اس شہر اور اس کے مضافات کے لیے واجب العمل ہے اسی طرح اگر کوئی قاضی یا مجسٹریٹ یا ہلال کمیٹی پورے ضلع یا صوبہ یا پورے ملک کے لیے ہو تو اس کا فیصلہ اپنے اپنے حدود ولایت میں واجب العمل ہوگا‘‘۔
(3/484، مسئلہ رؤیت ہلال، ط؛ مکتبہ دارالعلوم کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144210200524
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن