
1. فروٹ اور سبزی وغیرہ بیچنے والے جو سڑک کے کنارے یا دوسری سرکاری جگہوں پر ٹھیلہ لگاتے ہیں، کیا اس کے ذریعے ان کا کمایا ہوا مال حلال ہوگا یا حرام؟ کیونکہ وہ سڑک وغیرہ سب سرکاری جگہ ہیں۔
2. اسی طرح قبضہ مافیا یا دیگر طاقتور عناصر سڑک کے کنارے یا دیگر سرکاری جگہوں پر قبضہ کر کے ان جگہوں کو آگے کرائے پر دیتے ہیں، پھر ان سے روزانہ یا ہفتہ واری یا ماہانہ پیسے وصول کرتے ہیں، کیا یہ پیسے ان کے لیے حلال ہوں گے یا حرام؟
1. صورتِ مسئولہ میں ٹھیلے والے جو سبزی یا فروٹ وغیرہ سڑک کے کنارے یا سرکاری جگہوں پر ٹھیلہ لگا کر فروخت کرتے ہیں تو چوں کہ یہ خرید و فروخت ایک حلال اور جائز کام ہے، اس لیے ان کی آمدنی حلال ہو گی، سرکاری سڑک پر ٹھیلہ لگانے سے ان کی آمدنی حرام نہیں ہو گی، البتہ اگر اس وجہ سے گزرنے والوں کو تکلیف ہو تو سڑک کے کنارے پر ٹھیلہ لگانا جائز نہیں ہو گا،اور اگر اس کی وجہ سے گزرنے والوں تکلیف نہ ہو تو منع نہیں ہو گا،بہر صورت آمدنی حلال ہے کیوں کہ وہ حلال چیز کے عوض میں ہے۔
2. سرکاری جگہ پر قبضہ کر کے اس کو آگے کرایہ پر دینا جائز نہیں، اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والا کرایہ بھی حلال نہیں، اس لیے کہ کرایہ پر کوئی جگہ دینے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اس جگہ کا مالک ہو اور سرکاری املاک پر قبضہ کر لینے سے کوئی شخص اس کا مالک نہیں بن جاتا۔
منحۃ السلوک فی شرح تحفۃ الملوک میں ہے:
"(ويباح الجلوس في الطريق للبيع إذا كان واسعاً، لا يتضرر الناس به) أي بجلوسه (ولو كان الطريق ضيقاً: لا يجوز) لأن المسلمين يتضررون بذلك. وقال عليه السلام: "لا ضرر ولا ضرار في الإسلام."
(كتاب الكراهية، فروع، ج:1، ص:428، ط: دارالفکر)
فتاوی شامی میں ہے :
"وطريق العامة ...
وفي القهستاني: ويحل له الانتفاع بها وإن منع عنه، كما في الكرماني، وقال الطحاوي: إنه لو منع عنه لايباح له الإحداث ويأثم بالانتفاع والترك كما في الذخيرة".
(کتاب الدیات، باب ما يحدثه الرجل في الطريق وغيره، ج:6،ص:592،ط:سعید)
المحيط البرهانی میں ہے:
"وسئل أبو القاسم عمن يبيع ويشتري في الطريق قال: إن كان الطريق واسعاً ولا يكون في قعوده ضرر للناس فلا بأس."
(كتاب البيع، الفصل الخامس والعشرون: ج:7، ص: 140، ط: دار الكتب العلمية)
فتاوی شامی میں ہے:
"لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."
(كتاب الحدود، باب التعزير، ج:4، ص:61، ط: سعید)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144801100121
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن