
ہمارا گھر کارنر کا ہے اور کارنر میں عام طور پر لوگ سرکاری جگہ اپنی جگہ میں شامل کرتے ہیں اور سرکار کی جگہ پر دکانیں بناکر خود استعمال کرتے ہیں یا کرایہ پر دیتے ہیں۔
کیا ایسی جگہ کا استعمال کرنا یا کرایہ پر دینا جائز ہے؟
اور اس کی آمدنی کا کیا حکم ہے؟
نیز ہمارے گھر میں بھی ہم نے سرکار کا کچھ حصہ شامل کیا ہے اور دکانیں بھی بنائی ہے البتہ دکانوں میں اپنی ذاتی جگہ بھی شامل کی ہے۔
کیا اس صورت میں کرایہ کا استعمال درست ہے؟
واضح رہے کہ سرکاری زمین میں سرکار کی اجازت کے بغیر کسی قسم کاتصرف کرنا جائز نہیں ہے،یعنی حکومتی زمین پر تعمیر کرکے رہائش اختیار کرنایا کرائے پر دینا یا کسی بھی قسم کا فائد اٹھانا درست نہیں ہے،بہر صورت سرکار کی اجازت ضروری ہے۔لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جن لوگوں نے سرکاری زمین پر بلا اجازت دکانیں تعمیر کی ہیں، ان کا یہ اقدام شرعاً و قانوناً درست نہیں۔یہ عمل شرعاً درست نہیں ہے۔البتہ جو تعمیرات انہوں نے اپنی رقم سے کی ہیں، وہ تعمیرات تعمیر کرنے والوں کی ملکیت ہیں، اس بنا پر اگر وہ صرف تعمیرات کا کرایہ لیتے ہوں تو اس کی گنجائش ہوگی، بشرطیکہ پہلے ہی واضح طور پر معاہدہ کر لیا جائےیا اس بات کی صراحت کردی جائے کہ لیا جانے والا کرایہ زمین یا دکان کی جگہ کا نہیں بلکہ صرف تعمیرات کا ہے؛ کیونکہ زمین ان کی ملکیت میں نہیں،لہذا اس صورت میں تعمیرات کا حاصل ہونے والا کرایہ حلال ہوگا، تاہم اس کے باوجود زمین پر ناجائز قبضہ برقرار رہے گا، اور سرکار جب چاہے اس قبضے کو ختم کر کے زمین کو اپنے تصرف میں لینے کی مجاز ہوگی۔
فتاوی شامی میں ہے:
"لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته."
(كتاب الغصب، ج: 6، ص: 200، ط: سعيد)
شرح المجلہ میں ہے:
"لایجوز لأحد أن یاخذ مال أحد بلا سبب شرعي."
(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، ج: 1، ص: 51 ، مادۃ: 97، ط: رشدیة)
بدائع الصنائع میں ہے:
"ومنها الملك والولاية فلا تنفذ إجارة الفضولي لعدم الملك، والولاية لكنه ينعقد موقوفا على إجازة المالك عندنا."
(كتاب الإجارة، فصل في أنواع شرائط ركن الإجارة، ج: 4، ص: 177، ط: دار الكتب العلمية)
فتاوی شامی میں ہے :
"وطريق العامة ما لايحصى قومه أو ما تركه للمرور، قوم بنوا دورا في أرض غير مملوكة فهي باقية على ملك العامة، وهذا مختار شيخ الإسلام، والأول مختار الإمام الحلواني، كما في العمادي، قهستاني... (قوله:فإن ضر لم يحل ) كان عليه أن يقول: فإن ضر أو منع لم يحل ا هـ وفي القهستاني: ويحل له الانتفاع بها وإن منع عنه، كما في الكرماني، وقال الطحاوي: إنه لو منع عنه لايباح له الإحداث ويأثم بالانتفاع والترك كما في الذخيرة."
(كتاب الديات، باب ما يحدثه الرجل في الطريق وغيره، ج: 6، ص: 592، ط: سعید)
فتاویٰ محمودیہ میں ہے:
"سوال:گورنمنٹ نے چک بندی کے زمانہ میں کچھ راستے چھوڑے ان کی جوتائی وغیرہ کرکے غلہ حاصل کرنا کیسا ہے؟ اس کا کیا حکم ہے؟
الجواب حامدا ومصلیاً:جو زمین کسان کی نہیں ، نہ کوئی معاملہ اجارہ یا بٹائی کا مالک سے کیا ہو، اس کو جوتنا اور غلہ حاصل کرنا اس کے لیے جائز نہیں ، وہ گورنمنٹ کی ملک ہے تو اس کی اجازت سے درست ہے۔"
(کتاب المزارعۃ، سرکاری زمین میں کھیتی کرنا، ج: 17، ص: 196، ط:ادارہ الفاروق کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100207
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن