
میرا دو کمروں پر مشتمل ایک مکان تھا۔ یہ مکان نالے کے قریب واقع تھا۔ نالے سے متصل ایک کمرے کے نیچے ایک تہہ خانہ تھا۔ مذکورہ تہہ خانہ ہمارے چچا کی ملکیت تھا، جبکہ تہہ خانے کے اوپر والا کمرہ اور اس کے برابر والا دوسرا کمرہ ہماری ذاتی ملکیت تھے۔حکومت کی طرف سے نالے کی توسیع کی گئی، جس کے نتیجے میں پورا مکان گرا دیا گیا۔ اس میں تہہ خانہ اور اس کے اوپر والا کمرہ آدھا حصہ نالے کی توسیع میں شامل کر دیا گیا۔ نالے سے متصل کمرہ غیر قانونی تھا، جبکہ نالے کے برابر والا دوسرا کمرہ ہمارا ذاتی اور لیز شدہ تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ چونکہ جس کمرے کا آدھا حصہ نالے میں شامل کیا گیا، اس کے نیچے تہہ خانہ چچا کی ملکیت تھا، تو کیا اس تہہ خانے کے باقی بچے ہوئے حصے پر دوبارہ تعمیر کی جا سکتی ہے یا نہیں؟اور اگر تعمیر کی جا سکتی ہے تو چونکہ مکان گرنے سے پہلے تہہ خانے کے اوپر والا کمرہ ہمارا تھا، تو کیا چچا کے تہہ خانے پر دوبارہ تعمیر ہونے کی صورت میں ہمیں اس کے اوپر کمرہ بنانے کا حق حاصل ہوگا، یا تہہ خانہ اور اس کے اوپر تعمیر کا حق مکمل طور پر چچا ہی کا شمار ہوگا؟
صورتِ مسئولہ میں وہ جگہ، جس پر سائل کے چچا کا تہہ خانہ تھا اور سائل نے اس کے اوپر کمرہ بنایا تھا،اوریہ سرکاری زمین تھی۔ اس پر سائل کے چچا اور سائل دونوں کا سرکار سے اجازت لیے بغیر تعمیر کرنا جائز نہیں تھا۔ تعمیر کرنے کی وجہ سے وہ جگہ نہ سائل کی ملکیت میں آئی اور نہ ہی اس کے چچا کی، بلکہ وہ بدستور سرکار ہی کی ملکیت میں رہی۔اب سرکار کی طرف سے وہ تعمیر گرا دیے جانے کے بعد سائل اور سائل کے چچا کے لیے سرکار سے اجازت لیے بغیر اس جگہ پر دوبارہ تعمیر کرنا جائز نہیں ۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبرا من الأرض ظلما فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين".
(كتاب البيوع، باب الغصب والعاریة،ج:2،ص:887،ط:المكتب الإسلامي بيروت)
ترجمہ: "حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا؛ جو شخص( کسی کی ) بالشت بھر زمین بھی از راہِ ظلم لے گا،قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین اس کے گلے میں طوق کے طور پرڈالی جائے گی۔"
الموسوعۃ الفقهیۃ الكويتیۃ میں ہے:
"أما أراضي بيت المال وهي التي آلت إليه بموت أربابها، أو فتحت عنوة وأبقاها الإمام لبيت المال، وهي التي تسمى (أرض الحوز) فإذا دفعها الإمام إلى الرعية كانت بأيديهم وليس لهم بيعها، ولا استبدالها إلا بإذن الإمام، ولا تكون ملكا لأحد إلا بتمليك السلطان له. ثم إن من هي تحت يده من الرعايا إن تسلمها بوجه حق فهو أولى بها من غيره ما دام يدفع أجر المثل، فيكون له فيها (مشد مسكة) يتمسك بها ما دام حيا في الحرث وغيره، وحكمها أنها لا تقوم، ولا تملك، ولا تباع."
(خلو،أحكام الخلو،القسم الثاني،ج:19،ص:294،ط:وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية الكويت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707101845
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن