
میرے بھائی فارن افیئر محکمہ میں کام کرتے ہیں ان کے آفس کے باہر کچھ لیموں اور کیلوں اور آم کے پیڑ ہیں، میرے بھائی وہاں سے اکثر لیموں لےکر آتے ہیں ،بھائی کہتے ہیں سب لیکر جاتے ہیں، تو ان کا ان درختوں سے کچھ لیکر آنا جائز ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئلہ میں اگر انتظامیہ کی طرف سے ان درختوں کے پھلوں کے استعمال کی صراحۃً یا دلالۃً اجازت موجود ہو تو مذکورہ درختوں کے پھل کا استعمال کرنا جائز ہوگا، اگر اجازت نہ ہو تو کھانا جائز نہیں ، اجازت ہونے یا نہ ہونے کا پتہ اس طرح ہو سکتا ہے کہ یا تو حکومت سرکار کی طرف سے باقاعدہ اجازت کا اعلان ہو کہ یہاں سے پھل توڑنا منع نہیں ہے، دوسرا یہ کہ پھل کھانے والوں کا حکومت کی طرف سے کچھ مواخذہ نہ ہو ۔
فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
"إذا مر الرجل بالثمار في أيام الصيف وأراد أن يتناول منها والثمار ساقطة تحت الأشجار، فإن كان ذلك في المصر لا يسعه التناول إلا إذا علم أن صاحبها قد أباح إما نصا أو دلالة بالعادة، وإن كان في الحائط، فإن كان من الثمار التي تبقى مثل الجوز وغيره لا يسعه الأخذ إلا إذا علم الإذن، وإن كان من الثمار التي لا تبقى تكلموا فيه قال الصدر الشهيد - رحمه الله تعالى -والمختار أنه لا بأس بالتناول ما لم يتبين النهي، إما صريحا أو عادة، كذا في المحيط. والمختار أنه لا يأكل منها ما لم يعلم أن أربابها رضوا بذلك، كذا في الغياثية۔۔۔۔۔۔۔۔وأما إذا كانت الثمار على الأشجار فالأفضل أن لا يأخذ من موضع ما إلا بالإذن إلا أن يكون موضعا كثير الثمار يعلم أنه لا يشق عليهم أكل ذلك فيسعه الأكل، ولا يسعه الحمل".
(كتاب الكراهية، ج:5، ص:340،339، ط: رشيدية)
بدائع الصنائع میں ہے:
"ولا يجوز التصرف في ملك الغير بغير إذنه".
(كتاب النكاح، فصل بيان شرائط الجواز والنفاذ، ج 2، ص 234، ط: دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801101732
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن