
ہمارے یہاں یہ کام عام ہو رہا ہے کہ بعض لوگ جو سرکاری ملازم ہیں اور گاؤں کے اسکولوں میں حکومت کی طرف سے بطورِ استاد کے مقرر ہیں، لیکن وہ چند مشکلات کی وجہ سے گاؤں نہیں جاتے بلکہ شہر کے بازار وغیرہ میں رہتے ہیں اور اپنی جگہ پر گاؤں کے لوگوں کو معاوضہ دے کر رکھ لیتے ہیں، کیا اس طرح ان کا معاوضے پر رکھنا اور معاوضہ دینا جائز ہے؟ جو لوگ ان کی جگہ کام کرتے ہیں ان کا معاوضہ لینا جائز ہے ؟
نیز یہ بھی پوچھنا ہے کہ اگر کوئی اسکول ٹیچر خود جا کر گاؤں میں اپنی جگہ پڑھانا چاہتا ہے لیکن اس گاؤں کے لوگ اس کو تنگ کرتے ہیں اور اس گاؤں کے با اثر لوگ مذکورہ اسکول ٹیچر کو گاؤں میں آکر پڑھانے سے منع کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ آپ بھی دیگر لوگوں کی طرح اپنی جگہ پر معاوضے کے طور پر بندہ رکھ لو، اس کو اختیار دیتے ہیں کہ اگر اپ نے نہیں آنا تو آپ کی مرضی ہے، مذکورہ اسکول ٹیچر کے متعلق کیا حکم ہے؟ اس کو کیا کرنا چاہیے۔
صورتِ مسئولہ میں سرکاری اسکول ٹیچر کو سرکار کی جانب سے چوں کہ اپنی جگہ کسی اور کو اسکول میں ٹیچر مقرر کرنے کا اختیار نہیں دیا جاتا ہے، لہذا اس کے لئے اپنی جگہ کسی اور کو مقرر کرنا اور خود ملازمت کے اوقات میں حاضر نہ ہونا جائز نہیں، ایسی صورت میں وہ سرکار کی جانب سے مقرر شدہ تنخواہ لینے کا شرعًا حق دار نہ ہوگا، اور نہ ہی اس کے لیے تنخواہ وصول کرنا جائز ہوگا، البتہ اس کی جگہ جو شخص معلم کی حیثیت سے خدمت انجام دے رہا ہے، اسے متعینہ اجرت ملے گی، ورنہ وہ اجرتِ مثل کا حق دار ہوگا، لہذا اگر سرکاری ملازم ملازمت نہیں کرسکتا تو استعفی دے دے، تاکہ سرکار اس کی جگہ کسی اہل شخص کو مقرر کردے، یا اپنی جگہ کسی اور کو مقرر کرنے کی سرکار سے اجازت لے لے، پس اگر اسے اجازت مل جائے، تو اس صورت میں وہ اپنی جگہ کسی اور کو مقرر کرسکتا ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(وإذا شرط عمله بنفسه) بأن يقول له اعمل بنفسك أو بيدك (لا يستعمل غيره إلا الظئر فلها استعمال غيرها) بشرط وغيره خلاصة (وإن أطلق كان له) أي للأجير أن يستأجر غيره، أفاد بالاستئجار أنه لو دفع لأجنبي ضمن الأول
(قوله: بأن يقول له اعمل بنفسك أو بيدك) هذا ظاهر إطلاق المتون وعليه الشروح، فما في البحر والمنح عن الخلاصة من زيادة قوله ولا تعمل بيد غيرك فالظاهر أنه لزيادة التأكيد لا قيد احترازي ليكون بدونه من الإطلاق تأمل.
(قوله: لايستعمل غيره) ولو غلامه أو أجيره قهستاني؛ لأن عليه العمل من محل معين فلا يقوم غيره مقامه كما إذا كان المعقود عليه المنفعة، بأن استأجر رجلا شهرا للخدمة لا يقوم غيره مقامه؛ لأنه استيفاء للمنفعة بلا عقد زيلعي.
قال في العناية: وفيه تأمل،؛ لأنه إن خالفه إلى خير بأن استعمل من هو أصنع منه أو سلم دابة أقوى من ذلك ينبغي أن يجوز اهـ وأجاب السائحاني بأن ما يختلف بالمستعمل فإن التقييد فيه مفيد وما ذكر من هذا القبيل اهـ. وفي الخانية: لو دفع إلى غلامه أو تلميذه لا يجب الأجر اهـ.
وظاهر هذا مع التعليل المار أنه ليس المراد بعدم الاستعمال حرمة الدفع مع صحة الإجارة واستحقاق المسمى أو مع فسادها واستحقاق أجر المثل وأنه ليس للثاني على رب المتاع شيء لعدم العقد بينهما أصلا وهل له على الدافع أجر المثل؟ محل تردد فليراجع. (قوله: بشرط وغيره) لكن سيذكر الشارح في الإجارة الفاسدة عن الشرنبلالية أنها لو دفعته إلى خادمتها أو استأجرت من أرضعته لها الأجر إلا إذا شرط إرضاعها على الأصح، وكأن وجه ما هنا أن الإنسان عرضة للعوارض فربما يتعذر عليها إرضاع الصبي فيتضرر فكان الشرط لغوا تأمل (قوله وإن أطلق) بأن لم يقيده بيده وقال خط هذا الثوب لي أو اصبغه بدرهم مثلا؛ لأنه بالإطلاق رضي بوجود عمل غيره قهستاني."
(كتاب الاجارة، شروط الاجارة، 6/ 108، ط: سعید)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144701100087
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن