
سرکاری اسکولوں میں جو خالی جگہ ہوتی ہے، وہاں اگر اساتذہ کچھ سبزیاں اگاتے ہیں تو کیا ان سبزیوں کا استعمال اساتذہ کے لیے جائز ہے؟
واضح رہے کہ سرکاری املاک پر پوری قوم کا حق ہے؛ اس میں خیانت پوری قوم سے خیانت ہے۔ سرکاری املاک میں مقررہ شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، اور سرکاری قواعد و ضوابط نیز متعلقہ اتھارٹی کی اجازت کے بغیر کسی قسم کا تصرف جائز نہیں ہے۔
صورتِ مسئولہ میں اگر حکومت کی طرف سے سرکاری اسکولوں کی خالی جگہ میں اساتذہ کو سبزیاں اگانے اور ان کے استعمال کی اجازت ہو تو یہ عمل جائز ہے۔ لیکن اگر اجازت نہ ہو، تو ان سبزیوں کی قیمت اسکول کے فنڈ میں جمع کرائی جائےکسی کے لیے اس کا استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولا يجوز حمل تراب ربض المصر لأنه حصن فكان حق العامة فإن انهدم الربض ولا يحتاج إليه جاز كذا في الوجيز للكردري."
(کتاب الکراہیۃ، الباب الثلاثون فی المتفرقات،ج:5،ص:373،ط: رشيديه)
بدائع الصنائع میں ہے:
"ولا يجوز التصرف في ملك الغير بغير إذنه".
(كتاب النكاح، فصل بيان شرائط الجواز والنفاذ، ج:2، ص:234، ط: دار الكتب العلمية)
فتاوی دارالعلوم دیوبند میں ہے:
"ریلوے کی زمین میں ترکاری بوکر کھانا کیسا ہے؟
سوال: (۸۷) حدود ریلوے کے اندر جو زمین سرکاری پڑی ہے اس میں ترکاری بونا اور سرکاری نل سے پانی دینا اور ترکاری بوکر اور پرورش کر کے ملا زمان سرکار کو کھانا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: جب کہ عرفا اس سے نہیں روکا جاتا تو درست ہے۔"
(کھانے پینے اور ضیافت کے احکام، ج: 16، ص:80،ط: دارالعلوم دیوبند )
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144407101154
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن