
ہماری مسجد میں مشرق کی جانب آخری صف کا کچھ حصہ ایک سرکاری نالے کے اوپر بنا ہوا ہے ، ( جس پر پورے محلے کی نکاسی بھی ہے) ، اور اسی نالے کے اوپر سیڑھیاں بنی ہیں جو اوپر دوسری منزل کی طرف جاتی ہیں ۔
اب اس میں چند امور کے بارے میں رہنمائی درکار ہے۔
کیا یہ جگہ شرعی مسجد کے حدود میں آتی ہے یا نہیں ؟معتکفین حضرات کے لیے اس صف میں بیٹھنا یا نماز پڑھنا یا وہاں پر بغیر ضرورت شرعی کے جانا جائز ہے یا نہیں ؟معتکفین حضرات کے لیے ان سیڑھیوں کو استعمال کر کے دوسری منزل میں تراویح کے لیے جانا کیسا ہے ؟ جبکہ مسجد کے نیچے ہال میں بھی تراویح کی جماعت ہوتی ہے ۔ اگر اس صف پر نماز پڑھنے سے یا اس صف میں بیٹھنے سے یا ان سیڑھیوں کے استعمال سے معتکفین کا اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے ، تو ان پر کتنے دنوں کی قضا لازم ہوگی ؟
صورتِ مسئولہ میں مسجد کی مذکورہ صف اگر سرکاری نالے پر حکومت کی اجازت سے بنائی گئی ہے، تو یہ مسجد شرعی کے حکم میں ہو گی، تو اس صورت میں معتکفین کے لیے اس صف اور سیڑھیوں کو استعمال کرنا جائز ہو گا، اور اگر حکومت کی اجازت کے بغیر بنائی گئی ہو تو وہ مسجد شرعی نہیں ہو گی، تو پھر معتکفین کے اس جگہ پر جانے سے اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔
رہی بات اعتکاف کی قضا کی تو مسنون اعتکاف اگر ٹوٹ جائے تو جس دن کا اعتکاف فاسد ہوا ہے صرف اس کی قضا کرنا ضروری ہوتا ہے ، اور اس کی قضا کا طریقہ یہ ہےکہ ایک دن، رات روزے کے ساتھ مسجد میں اعتکاف کرے ، خواہ رمضان میں کرے یا رمضان کے بعد، یعنی غروبِ آفتاب سے پہلے مسجد چلا جائے اور اگلے دن روزہ رکھے اور پھر غروبِ آفتاب کے بعد واپس آجائے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"أرض وقف على مسجد والأرض بجنب ذلك المسجد وأرادوا أن يزيدوا في المسجد شيئا من الأرض جاز لكن يرفعوا الأمر إلى القاضي ليأذن لهم."
(كتاب الوقف، ج:2، ص:456، ط:دار الفكر)
مبسوط سرخسی میں ہے:
"أن للإمام ولاية الإقطاع فيما ليس بملك لإنسان بعينه؛ لأن ما كان الحق فيه لعامة المسلمين فالتدبير فيه إلى الإمام، وله أن يخص بعضهم بشيء من ذلك على حسب ما يرى."
(كتاب المزارعة، ج:23، ص:10، ط:دار المعرفة)
فتاوی شامی میں ہے:
" ما على قول غيره فيقضي اليوم الذي أفسده لاستقلال كل يوم بنفسه، وإنما قلنا أي باقيه بناء على أن الشروع ملزم كالنذر وهو لو نذر العشر يلزمه كله متتابعاً، ولو أفسد بعضه قضى باقيه على ما مر في نذر صوم شهر معين.والحاصل أن الوجه يقتضي لزوم كل يوم شرع فيه عندهما بناء على لزوم صومه بخلاف الباقي؛ لأن كل يوم بمنزلة شفع من النافلة الرباعية وإن كان المسنون هو اعتكاف العشر بتمامه تأمل."
(كتاب الصوم، باب الاعتكاف، ج:2، ص:444، ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711100406
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن