بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سرکاری ملازم کا اپنی جگہ دوسرے کو نائب مقرر کرنا


سوال

عبد الکریم ایک سرکاری ملازم ہے، جو اپنے لیے عبد الواجد نامی شخص کو نائب بنانا چاہتا ہےتاکہ عبد الواجد اس کی جگہ ڈیوٹی (نوکری)کرتا رہے اور عبد الکریم (ملازم)، عبدالواجد(نائب)  کو آدھی تنخواہ ماہانہ اجرت کے طور پر دیتا رہے،  اب دریافت یہ کرنا ہے کہ :

1۔کیا عبد الکریم کوسرکاری ملازمت میں اپنے لیے نائب مقرر کرنا جائزہے، جب کہ حکومت نے عبد الکریم ہی کو ملازم منتخب کیا ہے؟

2۔اگر جائز ہے تو نائب میں ملازمت کی اہلیت ہونا ضروری ہے؟ اگراہلیت نہیں تو کیا حکم ہے؟

3۔عبدالکریم کے لیے بقیہ تنخواہ(نائب کو دینے کے بعد) حلال ہے یا نہیں؟

4۔اگر یہ صورتیں جائز ہیں تو حکومت کو اطلاع دینا ضروری ہے یا بدونِ اطلاع نائب مقرر کرنا جائز ہے ؟

جواب

1تا4۔صورت مسئولہ میں حکومت نے جس شخص کو ملازم مقرر کیا ہے اسی پر ملازمت کے وقت حاضر ہونا اور متعلقہ کام سرانجام دینا شرعا لازم ہے ،سرکاری ملازم کا  خود کام نہ کرنااور اپنی جگہ کسی دوسرے شخص کو نائب مقرر کرکے حکومت سے تنخواہ لینا  شرعا جائز نہیں ہے، پس اگر وہ ملازمت کے اوقات میں حاضر نہ ہوسکتا ہو، تو استعفی دے دے، تاکہ دوسرا اہل شخص مذکورہ خدمت انجام دے سکے، لیکن اگر حکومت کی طرف سے اجازت ہو تو پھر اہل شخص کو نائب کے طور پر پیش کرنا اور متعلقہ ادارے سے اجازت لینا ضروری ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى بخلاف ما لو آجر المدة بأن استأجره للرعي شهرا حيث يكون مشتركا إلا إذا شرط أن لا يخدم غيره ولا يرعى لغيره فيكون خاصا."

 (کتاب الإجارۃ ، باب ضمان الأجیر، مبحث الأجیرالخاص، 6 /69، ط، دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702100442

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں