بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سرکاری اداروں میں لگے ہوئے درختوں سے پھل توڑنے اور کھانے کا حکم


سوال

سرکاری اداروں میں درختوں پر جو پھل لگے ہوتے ہیں انہیں درختوں سے توڑ کر استعمال کر سکتے ہیں؟ اور کیا ان پھلوں کو ادارے سے باہر لے جا کر استعمال کر سکتے ہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سرکاری اداروں میں لگے ہوئے درختوں سے پھل توڑنا اور استعمال کرنا سرکار / متعلقہ نگران کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ہے، البتہ اگر سرکار کی جانب سے توڑنے اور  استعمال کی صراحۃً یا دلالۃً  اجازت موجود ہوتو پھر اس کے توڑنے اور استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہوگا،تاہم  اجازت ہونے یا نہ ہونے کاعلم اس طرح ہو سکتا ہے کہ یا تو حکومت  سرکار کی طرف سے باقاعدہ اجازت کا اعلان ہو  کہ یہاں سے پھل توڑنا منع ہے، یا  یہ کہ پھل توڑنے اور کھانے والوں کا حکومت کی طرف سے کچھ مواخذہ نہ ہو۔ 

المحیط البرہانی میں ہے:

"وأما إذا كانت الثمار على الأشجار فالأفضل أن لا يأخذ في موضع ما إلا بإذن."

(‌‌‌‌كتاب الاستحسان والكراهية، الفصل الثاني عشر في الكراهية في الأكل، 5/ 352، ط: دار الکتب العلمية)

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"إذا مر الرجل بالثمار في أيام الصيف وأراد أن يتناول منها والثمار ساقطة تحت الأشجار، فإن كان ذلك في المصر لا يسعه التناول إلا إذا علم أن صاحبها قد أباح إما نصا أو دلالة بالعادة، وإن كان في الحائط، فإن كان من الثمار التي تبقى مثل الجوز وغيره لا يسعه الأخذ إلا إذا علم الإذن، وإن كان من الثمار التي لا تبقى تكلموا فيه قال الصدر الشهيد - رحمه الله تعالى - والمختار أنه لا بأس بالتناول ما لم يتبين النهي، إما صريحا أو عادة، كذا في المحيط. والمختار أنه لا يأكل منها ما لم يعلم أن أربابها رضوا بذلك، كذا في الغياثية ... وأما إذا كانت الثمار على الأشجار فالأفضل أن لا يأخذ من موضع ما إلا بالإذن إلا أن يكون موضعا كثير الثمار يعلم أنه لا يشق عليهم أكل ذلك فيسعه الأكل، ولا يسعه الحمل."

(كتاب الكراهية، 5/ 340 - 339، ط: دار الفكر)

بدائع الصنائع میں ہے:

"ولا يجوز التصرف ‌في ‌ملك ‌الغير بغير إذنه."

(كتاب النكاح، فصل بيان شرائط الجواز والنفاذ، 2/ 234، ط: دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710100545

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں