
ہماری دکان کے سامنے اگر ہم سامان نہ بھی رکھیں تو کے ایم سی ہم سے پیسے مانگتی ہے اگر پیسے نہ دیں تو پھر وہ تنگ کرتی رہتی ہے مارکیٹ سے لایا ہوا سامان اتارنے کے وقت سامان لے جانا، گاہک کو دیا ہوا سامان اٹھاکے لےجانا تو کیا ان تکالیف سے بچنے کیلیے ہم رشوت دے سکتے ہیں یا نہیں؟
کے ایم سی یا کسی بھی سرکاری ادارے کی کارروائی سے بچنے کے لیے رشوت دینا قانوناً جرم اور اسلام میں سخت حرام ہے۔ اگر آپ کا کام قانونی ہے اور آپ کو بلاوجہ پریشان کیا جا رہا ہے، یا آپ پر کوئی غیر قانونی دباؤ ہے، تو رشوت دینے کے بجائے قانونی اور جائز طریقے اختیار کریں۔البتہ اگر غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہ ہونے کے باجود صرف رشوت نہ دینے کی وجہ سے تنگ کیا جارہا ہے تو ایسی صورت میں بھی اولاًرشوت دیے بغیر اپنے جائز حق کو حاصل کرنے کے لیے پوری کوشش کریں کہ رشوت دیے بغیر کسی طرح (مثلاً حکامِ بالا کے علم میں لاکر یا متعلقہ ادارے میں کوئی واقفیت نکال کر) کسی طرح ان سے چھٹکارا حاصل ہوجائے، لیکن اگر شدید ضرورت ہو اور کوئی دوسرا متبادل راستہ نہ ہو تو اپنے جائز کام کے لیے مجبوراً رشوت دینے کی صورت میں دینے والا گناہ گار نہ ہوگا، البتہ رشوت لینے والے شخص کے حق میں رشوت کی وہ رقم ناجائز ہی رہے گی اور اسے اس رشوت لینے کا سخت گناہ ملے گا۔
مرقاة المفاتیح میں ہے:
"(وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما) : بالواو (قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي» ) : أي: معطي الرشوة وآخذها، وهي الوصلة إلى الحاجة بالمصانعة، وأصله من الرشاء الذي يتوصل به إلى الماء، قيل: الرشوة ما يعطى لإبطال حق، أو لإحقاق باطل، أما إذا أعطى ليتوصل به إلى حق، أو ليدفع به عن نفسه ظلماً فلا بأس به، وكذا الآخذ إذا أخذ ليسعى في إصابة صاحب الحق فلا بأس به، لكن هذا ينبغي أن يكون في غير القضاة والولاة؛ لأن السعي في إصابة الحق إلى مستحقه، ودفع الظالم عن المظلوم واجب عليهم، فلايجوز لهم الأخذ عليه."
(کتاب الأمارة والقضاء، باب رزق الولاة وهدایاهم، الفصل الثاني،ج:7،ص295 ،ط:دارالکتب العلمیة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144712101184
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن