
سرکار کی طرف سے سڑک کے کام کے لیے فنڈ آیا تھا، ٹھیکے دار نے کام اچھی طرح مکمل کر دیا، تاہم اس میں سے کچھ رقم باقی رہ گئی ہے، اب وہ ٹھیکے دار اس باقی ماندہ رقم کو مسجد کے کام میں لگانا چاہتا ہے، کیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہے؟
سرکار کی طرف سے جو رقم سڑک کے کام کے لیے دی گئی تھی وہ امانت ہے اور اسی متعین کام پر خرچ کرنا لازم تھا، اگر کام مکمل ہونے کے بعد کچھ رقم بچ گئی ہے تو وہ رقم ٹھیکے دار کی ملکیت نہیں بنی بلکہ بدستور سرکار ہی کی ملکیت شمار ہوگی،لہٰذا ٹھیکے دار کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنی طرف سے اس باقی ماندہ رقم کو مسجد یا کسی اور نیک کام میں خرچ کر دے،بلکہ یہ رقم سرکار کو واپس کرنا لازم ہے،یاسرکار کی طرف سے بقایارقم کے بارے میں جو اصول و طریقہ کار مقرر ہو، اسی کے مطابق عمل کریں۔
دررالحکام میں ہے:
"(المال الذي قبضه الوكيل بالبيع والشراء وإيفاء الدين واستيفائه وقبض العين من جهة الوكالة في حكم الوديعة في يده فإذا تلف بلا تعد ولا تقصير لا يلزم الضمان. والمال الذي في يد الرسول من جهة الرسالة أيضا في حكم الوديعة) . ضابط: الوكيل أمين على المال الذي في يده كالمستودع.
بناء عليه يلزم الوكيل الضمان في الخصوصات التي يلزم الضمان فيها الوديع، ويبرأ الوكيل من الضمان أيضا في الخصوصات التي برئ فيها المستودع (البحر، الهندية) . والقول قوله في دفع الضمان عن نفسه، بناء عليه المال الذي قبضه الوكيل بالبيع والشراء وإيفاء الدين واستيفاء وقبض العين ودفعها من جهة الوكالة في حكم الوديعة في يده وعليه فإذا كان موجودا عينا فيلزم تسليمه عينا إلى موكله."
(الكتاب الحادي عشر الوكالة، الباب الثالث في بيان أحكام الوكالة، ج:3، ص:561، ط:دار الجيل)
بدائع الصنائع میں ہے :
"لأن الوكيل يتصرف بولاية مستفادة من قبل الموكل فيملك قدر ما أفاده، ولا يثبت العموم إلا بلفظ يدل عليه، وهو قوله: اعمل فيه برأيك وغير ذلك مما يدل على العموم."
(کتاب الوکالۃ، ج:6، ص:28، ط:دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708100042
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن