
ایک شخص محکمہ تعلیم میں ملازم ہے ،اور وہ ایک ہائی سکول میں تعینات ہو ،اور نظام کچھ ایسا ہے کہ ”ہائی سکول“ کے اختیارات محکمہ نے اس کے ”ہیڈماسٹر “کے حوالہ کیے ہوئے ہیں ،پھر تنخواہ کا معاملہ ہو یا غیر حاضری وغیرہ ،تمام کا تمام کا اختیار ہیڈ ماسٹر کے پاس ہے،جس کو ڈی ڈی او بنایا گیا ہے۔ اس کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ ملازم کی تنخواہ کاٹ بھی سکتا ہے اور بند بھی کرسکتا ہے ، ملازم کی شکایت محکمہ بالا کو ارسال کر کے ملازم کا ٹرانسفر یا فارغ کرسکتا ہے ۔
اگر ایک ملازم( جس کا ڈی ڈی او، ہائی سکول کا ہیڈماسٹر ہے) ڈی ڈی او کی اجازت سے سکول کے اوقات میں کمی کرے، ہیڈماسٹر کی اجازت سے وہ وقت مدرسہ یا کسی اور مصرف میں صرف کرے، لیکن اس وقت میں ڈی ڈی او کی مکمل اجازت ہو ،تو کیا وہ وقت جو ملازم نے کسی اور جگہ صرف کرے تو اس ٹائم کی تنخواہ اس کے لئے جائز ہے یا نہیں؟ اور اس اجازت کی کیا حیثیت ہوگی؟ اگر چہ محکمہ نے ان کو محدود اختیارات مستقل بنیاد پر دے رکھے ہوں، اور وہ اپنے اختیارات استعمال کرنے میں صاحب اختیار ہو۔
واضح رہے کہ سرکاری ملازمین اجیر خاص ہوتے ہیں یعنی مخصوص اور متعین اوقات میں ہر حال میں ادارے کو خدمات فراہم کرنے کے مستقلاً پابند ہوتے ہیں، البتہ عارضی بنیاد پر کسی مجبوری کے پیش نظر ان کے لیے رخصت لینے کی گنجائش ہوتی ہے، اسی طرح سرکاری محکمہ کے ذمہ داران ادارے کی بہتری اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے مقرر کیے جاتے ہیں، نہ کہ قانون شکنی کے لیے، البتہ ان کو بھی شرعی طور پر اور حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کو عارضی بنیاد پر مجبوری کے پیش نظر رخصت دینے کی اجازت ہوتی ہے، مستقل بنیاد پر نہیں۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر جو کہ ڈی ڈی او بھی ہیں ان کو مستقل بنیاد پر کسی ملازم کو مخصوص اوقات کی رخصت دینے کا اختیار نہیں ہے، اور ان کا اس طرح مستقل بنیاد پر اسکول کے عملہ میں سے کسی بھی شخص کو رخصت دینا اپنے فریضہ ، اور ملک و قوم کے ساتھ خیانت ہے، نیز اسکول کے ملازم کے لیے اسکول سے مستقل بنیاد پر مخصوص اوقات کی رخصت لے کر وہ وقت کسی اور جگہ پر صرف کرنا اور اس وقت کے بدلہ اسکول سے تنخواہ لینا بھی شرعاً جائز نہیں ہے۔
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:
"حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن أشعث عن عامر عن شريح قال: المسلمون عند شروطهم ما لم يُعص اللَّه."
(كتاب البيوع والأقضية،من قال: المسلمون عند شروطهم،236/12، ط:دار كنوز إشبيليا للنشر والتوزيع، الرياض - السعودية)
الدر المختار میں ہے:
"(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى بخلاف ما لو آجر المدة بأن استأجره للرعي شهرا حيث يكون مشتركا إلا إذا شرط أن لا يخدم غيره ولا يرعى لغيره فيكون خاصا."
(کتاب الاجارۃ ،باب ضمان الاجیر،ج:6،ص:72،ط:سعید)
شرح القواعد الفقہیہ -از احمد بن محمد الزرقاء- میں ہے:
"(أولا _ الشرح) التصرف على الرعية منوط بالمصلحة، أي: إن نفاذ تصرف الراعي على الرعية ولزومه عليهم شاؤوا أو أبوا معلق ومتوقف على وجود الثمرة والمنفعة في ضمن تصرفه، دينية كانت أو دنيوية. فإن تضمن منفعة ما وجب عليهم تنفيذه، وإلا رد، لأن الراعي ناظر، وتصرفه حينئذ متردد بين الضرر والعبث وكلاهما ليس من النظر في شيء.
والمراد بالراعي: كل من ولي أمرا من أمور العامة، عاما كان كالسلطان الأعظم، أو خاصا كمن دونه من العمال، فإن نفاذ تصرفات كل منهم على العامة مترتب على وجود المنفعة في ضمنها، لأنه مأمور من قبل الشارع [صلى الله عليه وسلم] أن يحوطهم بالنصح، ومتوعد من قبله على ترك ذلك بأعظم وعيد، ولفظ الحديث أو معناه: " من ولي من أمور هذه الأمة عملا فلم يحطها بنصح لم يرح رائحة الجنة ".
(ثانيا _ التطبيق) فلو عفا السلطان عن قاتل من لا ولي له لا يصح عفوه ولا يسقط القصاص، لأن الحق للعامة والإمام نائب عنهم فيما هو أنظر لهم، وليس من النظر إسقاط حقهم مجانا وإنما له القصاص أو الصلح."
(القاعدة السابعة والخمسون ،التصرف على الرعية منوط بالمصلحة ، ص:309، ط: دار القلم، دمشق - سوريا)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710100863
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن