
زید اپنے شہر سے پچاس کلومیٹر دور دوسرے شہر جا رہا تھا۔ عمرو نے اس سے کہا کہ میری فلاں چیز سرکاری دفتر سے حاصل کر لینا، میں تمہیں پچاس روپے ادا کروں گا۔ جب زید اس سرکاری دفتر پہنچا تو عمرو کی طرف سے ناکافی دستاویزات فراہم کرنے کی وجہ سے سرکاری ملازمین نے مطلوبہ شے دینے سے انکار کر دیا۔
واپسی پر عمرو زید سے پچاس روپے کا مطالبہ کر رہا ہے اور کہتا ہے کہ چونکہ تم میری چیز لا نہیں سکے، اس لیے تمہیں پچاس روپے لینے کا کوئی حق نہیں۔
تو کیا شرعاً عمرو کا یہ مطالبہ درست ہے؟
صورتِ مسئولہ میں زید کو عمرو نے شہر کے ایک دفتر سے چیز لانے کے لیے اجیر مقرر کیا تھا۔ زید نے اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے دفتر تک جانا اور مطلوبہ کارروائی کرنا انجام دے دیا۔ اگرچہ کاغذات کی کمی کی بنا پر مطلوبہ چیز حاصل نہ ہو سکی، لیکن یہ کمی عمرو کی طرف سے تھی، زید کی جانب سے کوئی کوتاہی ثابت نہیں ہوئی۔چونکہ زید عمرو ہی کے کام کے لیے گیا تھا اور اس نے اپنے ذمے کا عمل ادا کر دیا، اس لیے وہ اپنی پوری مقررہ اجرت کا مستحق ہے۔ لہٰذا عمرو کا اجرت ادا نہ کرنا، یا اگر ادا کر چکا ہو تو اسے واپس لینے کا مطالبہ کرنا، شرعاً درست نہیں ہے۔
لسان الحكام میں ہے:
"استأجر رجلا ليحمل له غلة من مطمورة عينها فذهب فلم يجده ورجع قسم الأجر المسمى على ذهابه وحمله ورجوعه ولزمه أجر الذهاب لأن الذهاب كان له وإن كان لم يسم المطمورة لا يتجاوز عن قسط المسمى للذهاب وله أجر المثل قال للخياط استأجرتك لتخيط هذا الثوب فخاطه غلامه استحق الأجر وإن قال بيد نفسك لا يستحق"
(الفصل الثانی عشر فی الاجارۃ، ص:364، ط:البابي الحلبي-القاهرة)
فتویٰ نمبر : 144708100423
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن