
ہمارے علاقے بلگام کرناٹک میں ایک زمین کو گورنمنٹ نے مسلمانوں کے لیے پچاس سال پہلے قبرستان بنانے کے لیے دے دیا تھا، جہاں پر پچاس سال سے تدفین ہوئی ہے ، اور اب وہ زمین فل ہوگئی ہے ، اب پوری اس زمین کو ، ،کمپاؤنڈ لگاکر محفوظ کیا گیاہے تو اب زمین کے کنارے جہاں پر ایک روڈ ہے وہاں پر دکانیں ہے ،تو اب کیا اس قبرستان کی زمین پر قبروں کو چھوڑ کر کمرشیل دکانیں بناکر کرائے پر لگاکر اس کرائے کی رقم کو اسی زمین پر خرچ کرنا ہے، تو کیا اس بھرے ہوئے قبرستان کے کنارے دکانیں بناکر کرائے پر لگانا کیا درست ہے ؟اور مزید یہ کہ اس زمین کو بعد میں حفاظت کے خاطر کمیٹی نے وقف رجسٹر کیا ہے، تو کیا اس پر وقف کے احکام بھی جاری ہوں گے؟ برائے مہربانی اس کا جواب مرحمت فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں جب مذکورہ زمین سرکاری طور پر قبرستان کے لیے وقف شدہ ہیں، اور مذکورہ زمین کے کناروں پر تدفین کے لیے جگہ موجود ہے،تو اس موقوفہ زمین پر دکان وغیرہ تعمیر کرکے کرایہ پر دینا جائز نہیں ہے، بلکہ اس اراضی کو فقط اموات کی تدفین میں استعمال کرنا لازم ہے۔نیز جب سرکار نےوہ زمین قبرستان کے لیے وقف کی ہے ، اور باقاعدہ کمیٹی والوں نے اس کو رجسٹر بھی کر لیا ہے، تو اس پر وقف کے احکام لاگو ہوں گے، لہذا اس میں صرف میت کی تدفین ہوگی ، اس جگہ کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرناجائز نہیں ہوگا۔
فتاویٰ رحیمیہ میں اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں ہے:
" (الجواب)حامدا و مصلیا ومسلما۔ یہ بات سمجھ لی جائی کہ واقف نے جس مقصد سے اپنی زمین وقف کی ہو ، اس وقف شدہ زمین کا استعمال واقف کی منشاء کے مطابق ہونا ضروری ہے ، اس میں تبدیلی کرنا اور واقف کی منشاء کے خلاف عمل کرنا جائز نہیں ہے شامی میں ہے: شرط الواقف کنص الشارع (شامی ۳/۵۷۵ )نیز شامی میں ہے: صرحوا بأن مراعاۃ غرض الواقفین واجبة (شامي ۳/ ۵۸۵)قبرستان مردوں کی تدفین کے لیے وقف ہوتا ہے ، لہذا قبرستان کی پوری زمین اسی مقصد میں استعمال ہونا چاہیے، اس کے علاوہ دوسرے کاموں میں وقف قبرستان کی زمین استعمال کرنا درست نہیں ۔صورتِ مسئولہ میں جب یہ وقف قبرستان ہے تو اس کی پوری زمین مسلمان مردوں کی تدفین کے لیے ہی استعمال کرنا ضروری ہے ، اس زمین کا بیچنا یا کرایہ پر دینا جائز نہیں ہے، انجمن کے ذمہ داروں پر لازم ہے کہ قبرستان کی زمین حاصل کر کے اس زمین کا احاطہ کر کے اس کو محفوظ کرلیں اور ا س میں مسلمان مردوں کی تدفین شروع کر دیں اور واقف کی منشاء کے مطابق اس کا استعمال کریں ،جب شرعاً یہ حکم ہے تو دو ذمہ داروں کا اس زمین کے سلسلے میں دلالی لینا کیسے جائز ہوسکتا ہے ؟ فقط واللہ اعلم بالصواب "
(فتاوی رحیمیہ، عنوان :قبرستان کی زمین پر آمدنی کے لیے تعمیر کرنا، ج:9، ص:64، ط:دارالاشاعت)
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"البقعة الموقوفة على جهة إذا بنى رجل فيها بناءً و وقفها على تلك الجهة يجوز بلا خلاف تبعًا لها، فإن وقفها على جهة أخرى اختلفوا في جوازه، و الأصحّ أنّه لايجوز، كذا في الغياثية."
(ج:2، ص:362، ط:رشیدیہ)
فتاوی شامی میں ہے :
’’على أنهم صرحوا بأن مراعاة غرض الواقفين واجبة.‘‘
(ج:4، ص:445، ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101555
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن