
ایک شخص نے اپنی سرکاری نوکری دوسرے شخص کو بیچ دی، اب دوسرے شخص نے ایک تیسرے شخص کے نام کر دی اس شرط کے ساتھ کہ تنخواہ کا ایک متعین حصہ وہ تیسرے شخص کو دے گا، اور باقی تنخواہ وہ خود ہی وصول کرے گا، اور ڈیوٹی وہی دوسرا شخص سر انجام دے رہا تھا ،صرف تیسرے شخص کے نام کی ہوئی تھی، اب وہ دوسرا شخص اپنی نوکری تیسرے شخص سے اپنے نام کروانے کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن وہ تیسرا شخص کہہ رہا ہے کہ اب یہ نوکری میرے نام پر ہو چکی ہے، اب میں واپس کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا اس تیسرے شخص کے لیے نوکری کو واپس کرنا لازم ہے یا نہیں؟
وضاحت: سرکاری ریجسٹری میں ملازم تیسرا شخص ہے۔
واضح رہے کہ سرکاری نوکری کوئی مال نہیں ہے، بلکہ فقط ایک حق ہے، اس لیے سرکاری نوکری کو بیچنے کی حیثیت فقط ایک حقِ مجرد کو بیچنے کی ہے اور حقِ مجرد کی بیع شرعًا جائز نہیں ہے، لہذا صورت مسئولہ میں جب پہلے شخص نے اپنی سرکاری نوکری دوسرے شخص کو بیچ دی، اور پھر دوسرے شخص نے ایک تیسرے شخص کے نام کر دی اس شرط کے ساتھ کہ تنخواہ کا ایک متعین حصہ وہ تیسرے شخص کو دے گا، یہ خرید و فروخت شرعًا جائز نہیں تھی،تاہم تیسرا شخص چونکہ قانونی طور پر ملازم بن چکا ہے، تو تنخواہ کا شرعاً حقدار تیسرا شخص ہی ہو گا، دوسرے شخص کے لیے تنخواہ سے حصہ رکھنا، یا نوکری واپس کرنے کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہو گا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وأفتى في الخيرية أيضًا بأنه لو فرغ عن الوظيفة بمال فللمفروغ له الرجوع بالمال لأنه اعتياض عن حق مجرد وهو لايجوز صرحوا به قاطبةً، قال: ومن أفتى بخلافه فقد أفتى بخلاف المذهب لبنائه على اعتبار العرف الخاص وهو خلاف المذهب والمسألة شهيرة وقد وقع فيها للمتأخرين رسائل واتباع الجادة أولى والله أعلم."
(کتاب الوقف، مطلب للمفروغ له الرجوع بمال الفراغ ،ج:4، ص:383، ط:سعيد)
وفيه أيضاً:
"وفي الأشباه: لايجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة"
(کتاب البیوع، ج:4، ص:518، ط:سعید)
الاشباہ والنظائرمیں ہے :
’’الحقوق المجردة لايجوز الاعتياض عنها‘‘
(كتاب البيوع، بيع المعدوم باطل، ص:178، ط:دار الكتب العلمية بيروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101280
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن