بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1448ھ 25 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کنایہ الفاظ کے ساتھ طلاق دینے کا حکم


سوال

کچھ دن پہلے میرا اور میرے شوہر کا کسی گھریلو مسئلہ پر بحث ہوئی تھی،میں ان سے کوئی بات منوانا چاہتی تھی،لیکن وہ مان نہیں رہے تھے،وہ اپنی جگہ ٹھیک تھے اور طلاق کا کوئی ارادہ نہیں تھا،اور میں بہت زیادہ غصے میں آگئی اور کہا کہ اگر  آپ میری بات نہیں مانتے تو مجھے طلاق دے دیں،انہوں نے جوابا مجھے ٹھنڈا کرنے اور ڈرانے کے لیے یہ چند جملے ادا کیے،"ٹھیک ہے!  آدھے گھنٹے بعد فیصلہ ہوجائے گا،تم جو چاہتی ہو وہ آدھے گھنٹے میں ہوجائے گا،آدھے گھنٹے بعد تمہیں پتہ چل جائے گا،مجھے گھڑی کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ "ابھی ساڑے پانچ بج رہے ہیں، چھ بجے تک ان شاءاللہ اپنا رشتہ ختم ہو جائے گا"۔

تو کیا ان الفاظ سے میرے اوپر کوئی طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟

وضاحت: شوہر دار الافتاء تشریف لائے اور بتایا کہ میری نیت طلاق کی نہیں تھی، صرف ڈرانے کی نیت سے کہا تھا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے شوہر نے اس کی جانب سے طلاق دینے کے مطالبہ پر یہ الفاظ "ٹھیک ہے!  آدھے گھنٹے بعد فیصلہ ہوجائے گا،تم جو چاہتی ہو وہ آدھے گھنٹے میں ہوجائے گا،آدھے گھنٹے بعد تمہیں پتہ چل جائے گا"طلاق کی نیت سے نہیں کہے تو ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،نکاح بدستور قائم ہے،اسی طرح شوہر کے الفاظ "چھ بجے تک ان شاءاللہ اپنا رشتہ ختم ہوجائے گا"سے بھی کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"(الفصل الخامس في الكنايات) لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة."

(کتاب الطلاق، الباب الثانی في إیقاع الطلاق، الفصل الخامس في الکنایات في الطلاق، ج :1، ص :374، ط :المطبعة الکبری الأمیریة ببولاق مصر)

وفیه أیضا:

"ولو قال لم يبق بيني وبينك شيء ونوى به الطلاق لا يقع وفي الفتاوى لم يبق بيني وبينك عمل ونوى يقع كذا في العتابية."

(کتاب الطلاق، الباب الثاني في إیقاع الطلاق، الفصل الخامس في الکنایات في الطلاق، ج : 1، ص : 376، ط: المطبعة الکبری الأمیریة ببولاق مصر)

وفیه أیضا:

"إذا قال لامرأته: أنت طالق إن شاء الله - تعالى - متصلا به لم يقع الطلاق وكذا إذا ماتت قبل قوله إن شاء الله تعالى كذا في الهداية بخلاف ما إذا مات الزوج بعد قوله: أنت طالق قبل قوله إن شاء الله تعالى وهو يريد الاستثناء حيث يقع الطلاق وإنما يعلم ذلك فيما إذا قال قبل الإيقاع: إني أطلق امرأتي وأستثني كذا في الكفاية."

(کتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط، الفصل الرابع في الاستثناء، ج: 1، ص : 454، ط : المطبعة الکبری،مصر)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144612101493

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں