
میں نے اپنی بیوی کو فون پر غصہ کی حالت میں ایک بار ان الفاظ کے ساتھ طلاق دی ”میں نے آپ کو طلاق دی“ کیا میں رجوع کر سکتا ہوں؟ نیز کیا نکاح برقرار ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر خلوتِ صحیحہ ہوچکی ہو تو سائل نے جب اپنی بیوی کو فون پر غصے میں یہ الفاظ کہے کہ ”میں نے آپ کو طلاق دی“ تو ان الفاظ سے سائل کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہو چکی ہے، البتہ عدت (تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو تو، اور اگرحمل ہو تو بچے کی پیدائش تک)کے اندر اندر سائل کو رجوع کرنے کا حق حاصل ہے، رجوع کی صورت میں نکاح برقرار رہے گا، اور اگر عدت کے دوران رجوع نہیں کیا تو ایسی صورت میں عدت ختم ہونے سے نکاح ٹوٹ جائے گا، اور اس کے بعد دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے آپس کی رضامندی سے دو گواہوں کی موجودگی میں تجدیدِ نکاح کرنا ضروری ہو گا،رجوع ہو یا تجدیدِ نکاح بہر صورت آئندہ کے لیے سائل کے پاس بقیہ دو طلاق کا حق ہو گا۔
باقی رجوع کا طریقہ یہ ہے کہ شوہر زبانی طور پر بیوی سے کہہ دے کہ :”میں نے تجھ سے رجوع کیا“ تو اس سے بھی رجوع ہو جائے گا، اس کے علاوہ بوس و کنار سے یا ازدواجی تعلقات سے بھی رجوع ہو جاتا ہے۔
اور اگر میاں بیوی کے درمیان خلوتِ صحیحہ نہیں ہوئی ہے تو مذکورہ الفاظ کہنے سے بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوچکی ہے اور نکاح ختم ہوچکا ہے، رجوع نہیں ہوسکتا، البتہ تجدید ِنکاح کی گنجائش باقی ہےیعنی دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے آپس کی رضامندی سے دو گواہوں کی موجودگی میں تجدیدِ نکاح کرنا ضروری ہو گا،اس صورت میں بھی سائل کے پاس آئندہ بقیہ دو طلاق کا حق ہو گا۔
قرآن کریم میں باری تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ." ﴿البقرة: ٢٢٩﴾
فتاوی شامی میں ہے:
"(هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة) ... (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة (بكل ما يوجب حرمة المصاهرة) كمس (قوله: بنحو راجعتك) الأولى أن يقول بالقول نحو راجعتك ليعطف عليه قوله الآتي وبالفعل ط، وهذا بيان لركنها وهو قول، أو فعل... (قوله: مع الكراهة) الظاهر أنها تنزيه كما يشير إليه كلام البحر في شرح قوله والطلاق الرجعي لا يحرم الوطء رملي، ويؤيده قوله في الفتح - عند الكلام على قول الشافعي بحرمة الوطء -: إنه عندنا يحل لقيام ملك النكاح من كل وجه، وإنما يزول عند انقضاء العدة فيكون الحل قائماً قبل انقضائها. اهـ. ... (قوله: كمس) أي بشهوة، كما في المنح."
(کتاب الطلاق ،باب العدۃ،ج:3،ص:397،ط:سعید)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"وإذا طلق الرجل امرأته تطليقةً رجعيةً أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض."
(كتاب الطلاق،الباب السادس:فيما تحل به المطلقة وما يتصل به،ج:1،ص:470،ط:ماجديه)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له نقصان العدد، فأما زوال الملك وحل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لايثبت للحال بل بعد انقضاء العدة، وهذا عندنا."
(كتاب الطلاق، ج: 3، ص: 227، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101330
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن