بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سردی سے بچنے کے لیے شلوار کے نیچے پہنے جانے والے لباس (پاجامہ، لونگ جان، دَرَاز) وغیرہ کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کا حکم


سوال

سردی کے موسم میں ہم شلوار کے نیچے لونگ جان (دَرَاز) پہنتے ہیں ،کیا اس کا حکم وہی ہے جو شلوار کا ہے؟ یا اسکو ٹخنوں کے نیچے لٹکا سکتے ہیں؟ کیوں کہ اس میں تکبّر والی بات نہیں پائی جاتی ہے؟ ! براہ مہربانی تشفی بخش جواب عنایت فرمائیں کیونکہ بعض کہتے ہیں جائز ہے ،بعض مکروہ تنزیہی اور بعض مکروہ تحریمی اصل مسئلہ کیا ہے ؟

جواب

مردوں کے لیے کسی بھی قسم کا لباس (تہبند،شلوار،پاجامہ،چادر، قمیص وغیرہ) کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا جائز نہیں ہے، اس لیے اس بارے میں  شلوار کے نیچے پہنے جانے والی لونگ جان (دَرَاز) کا حکم بھی شلوار اور پاجامہ کی طرح ہے، یعنی سردی سے بچنے کے لیے شلوار کے نیچے پہنے جانے والی کسی بھی چیز کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا جائز نہیں ہے، ٹخنوں اور اس سے نیچے والے حصے کو ٹھنڈ سے بچانے کا جائز طریقہ یہ ہے کہ شلوار/ لونگ جان (دَرَاز) وغیرہ کو تو ٹخنوں سے اوپر رکھا جائے اور نیچے کی جانب سے  چمڑے کے موزے یا موٹے اونی/سوتی موزے پہن لیے جائیں،  اس طرح کرنے سے کسی بھی ناجائز فعل کا ارتکاب کیے بغیر  ٹھنڈ سے حفاظت ہوجائے گی۔

حديث شريف ميں ہے :

"حدثنا آدم: حدثنا شعبة: حدثنا سعيد بن أبي سعيد المقبري، عن أبي هريرة رضي الله عنه،عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (ما أسفل من الكعبين من الإزار ففي النار)."

(صحيح البخاري: كتاب اللباس، باب ما أسفل من الكعبين فهو في النار،،ج:5،ص:2182 ، ط: دار ابن كثير دمشق )

ترجمہ:"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ازقسم ازار (یعنی پائجامہ وغیرہ) کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا،وہ دوزخ میں ڈالا جائے گا۔"(مظاہرِ حق )

حدیث شریف میں ہے :

" عن ابي ذر ، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " ثلاثة لا يكلمهم الله يوم القيامة، ولا ينظر إليهم، ولا يزكيهم ولهم عذاب اليم "، قال: فقراها رسول الله صلى الله عليه وسلم: ثلاث مرارا، قال ابو ذر: خابوا، وخسروا، من هم يا رسول الله؟ قال: " المسبل، والمنان، والمنفق سلعته بالحلف الكاذب ."

(صحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب بیان غلظ تحریم  إسبال الإزار، 1/71، رقم: 106، بیت الأفکارالنسخة الهندیة)

ترجمہ :"رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے،  فرماتے ہیں کہ " تین (قسم کے لوگ) ہیں اللہ ان سے گفتگو نہیں کرے گا، نہ قیامت کے روز ان کی طرف سے دیکھے گا اور نہ انہیں (گناہوں سے) پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہوگا۔“ ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے اسے تین دفعہ پڑھا۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ نےکہا: ناکام ہو گئے اور نقصان سے دو چار ہوئے، اے اللہ کے رسول! یہ کون ہیں؟ فرمایا: ” اپنا کپڑا (ٹخنوں سے) نیچے لٹکانےوالا، احسان جتانے والا اور جھوٹی قسم سے اپنے سامان کی مانگ بڑھانے والا۔"

 

حدیث شریف میں ہے :

"حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن أبيه، قال: سألت أبا سعيد الخدري عن الإزار، فقال: على الخبير سقطت، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إزرة المسلم إلى نصف الساق، ولا حرج - أو لا جناح - فيما بينه وبين الكعبين، ما كان أسفل من الكعبين فهو في النار، من جر إزاره بطرا لم ينظر الله إليه»."

(سنن أبي داؤد: كتاب اللباس،‌‌باب في قدر موضع الإزار، ج:4، ص:59، رقم الحديث: 4093، ط: المكتبة العصرية صيدا، بيروت)

ترجمہ:"  عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ازار کی بابت سوال کیا، تو انہوں نے کہا کہ تم نے ایک باخبر سے دریافت کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مومن کی تہہ بند نصف پنڈلی تک رکھنا بہتر ہے، اور نصف پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان ہو تو کوئی حرج نہیں، یا فرمایا کہ کوئی گناہ نہیں، اور جو ٹخنوں سے نیچے ہو تو وہ آگ میں ہے، (یعنی اس کا نتیجہ جہنم ہے)، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس آدمی کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھے گا، جو ازراہِ فخر و تکبر اپنی ازار گھسیٹ کے چلے گا۔"

عمدۃ القاری میں ہے:

"(من جر ثوبه) يدخل فيه الإزار والرداء والقميص والسراويل والجبة والقباء وغير ذلك مما يسمى ثوبا".

(كتاب اللباس، ج:21، ص:295، ط:دار إحياء التراث العربي - بيروت)

فیض الباری میں ہے:

"قوله: (من جر ثوبه خيلاء) وجر الثوب ممنوع عندنا مطلقا، فهو إذن من أحكام اللباس، وقصر الشافعية النهي على قيد المخيلة ، فإن كان الجر بدون التكبر، فهو جائز، وإذن لا يكون الحديث من أحكام اللباس والأقرب ما ذهب إليه الحنفية، لأن الخيلاء ممنوع في نفسه، ولا اختصاص له بالجر، وأما قوله صلى الله عليه وسلم لأبي بكر: «إنك لست ممن يجر إزاره خيلاء»، ففيه تعليل بأمر مناسب، وإن لم يكن مناطا فعلة الإباحة فيه عدم الاستمساك إلا بالتعهد، إلا أنه زاد عليه بأمر يفيد الإباحة، ويؤكدها. ولعل المصنف أيضا يوافقنا، فإنه أخرج الحديث في اللباس، وسؤال أبي بكر أيضا يؤيد ما قلنا، فإنه يدل على أنه حمل النهي على العموم، ولو كان عنده قيد الخيلاء مناطا للنهي، لما كان لسؤاله معنى. والتعليل بأمر مناسب طريق معهود. ولنا أن نقول أيضا: إن جر الإزار خيلاء ممنوع لمن يتمسك إزاره، فليس المحط الخيلاء فقط."

(كتاب اللباس، باب من جر ثوبه من الخيلاء،ج:6،ص:72،ط:دار الكتب العلمية)

بذل المجہود  میں ہے :

"قال العلماء: المستحب في الإزار والثوب إلى نصف الساقين، والجائز بلا كراهة ما تحته إلى الكعبين، فما نزل عن الكعبين فهو ممنوع، فإن كان للخيلاء فهو ممنوع منع تحريم وإلا فمنع تنزيه۔"

(باب ما جاء في إسبال الإزار، ج:12، ص:113، ط:مركز الشيخ أبي الحسن الندوي للبحوث والدراسات الإسلامية، الهند)

فتح الباری میں ہے :

"وحاصله أن الإسبال يستلزم جر الثوب وجر الثوب يستلزم الخيلاء ولو لم يقصد اللابس الخيلاء ويؤيده ما أخرجه أحمد بن منيع من وجه آخر عن بن عمر في أثناء حديث رفعه وإياك وجر الإزار فإن جر الإزار من المخيلة وأخرج الطبراني من حديث أبي أمامة بينما نحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ لحقنا عمرو بن زرارة الأنصاري في حلة إزار ورداء قد أسبل فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يأخذ بناحية ثوبه ويتواضع لله ويقول عبدك وبن عبدك وأمتك حتى سمعها عمرو فقال يا رسول الله إني حمش الساقين فقال يا عمرو إن الله قد أحسن كل شيء خلقه يا عمرو إن الله لا يحب المسبل."

(باب من جر ثوبه من الخيلاء، ج 10، ص:264، ط:دار المعرفة، بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706101133

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں