
اگر سر میں کوئی دوائی لگی ہو ( جو ئیں مار نے کی دوائی) تو ایسی صورت میں نماز اور وضو ہوجا ئےگا؟
صور ت ِمسئولہ میں اگر جوئیں مارنے کی دوائی میں کوئی ناپاک چیز ملی ہوئی نہ ہو اور اس سے بالوں پر تہہ نہ بنتا ہو تو ایسی دوائی سر پرلگی ہو تو اس حالت میں وضوکرنادرست ہے اوراس وضوسےنمازبھی درست ہے ،اور اگر اس سے بالوں پر تہہ بن جاتا ہے اور وہ سر اور بالوں تک پانی پہنچنے کے لیے مانع ہو تو اس کو ہٹانے کے بغیر وضو، غسل درست نہیں ہو گا۔
تکملۃ فتح الملہم میں ہے:
"فإنها تستعمل في كثير من الأدوية و العطور و المركبات الأخرى، فإنها إن اتخذت من العنب أو التمر فلا سبيل إلى حلتها أو طهارتها، و إن اتخذت من غيرهما فالأمر فيها سهل على مذهب أبي حنيفة رحمه الله تعالى، و لايحرم استعمالها للتداوي أو لأغراض مباحة أخرى ما لم تبلغ حد الإسكار، لأنها إنما تستعمل مركبة مع المواد الأخرى، ولايحكم بنجاستها أخذاً بقول أبي حنيفة رحمه الله. و إن معظم الحكول التي تستعمل اليوم في الأودية و العطور و غيرهما لاتتخذ من العنب أو التمر، إنما تتخذ من الحبوب أو القشور أو البترول و غيره، كما ذكرنا في باب بيوع الخمر من كتاب البيوع."
(كتاب الأشربة، حكم الكحول المسكرة، ٣/ ٦٠٨، ط: مكتبة دار العلوم)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144602100373
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن