بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 محرم 1448ھ 11 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

سمدھن سے نکاح کرنے کا حکم


سوال

1۔میرا  داماد میری بیٹی کو کبھی بھی میرے گھر ایک دو دن کے لیے بھی رہنے نہیں چھوڑتا  اور میری بیوی تقریباً 4 سال بیمار رہ کر انتقال کر گئی وہ بیٹی کے لیے تڑپتی رہیں مگر ان کی خدمت کے لیے کبھی رہنے نہیں چھوڑا، وہ کہتا ہے کہ: ساس کی خدمت کرنا بیوی کی ذمہ داری ہے، اور اب وہ مجھ سے مکان کا حصہ طلب کر رہے ہیں ایسی بیٹی و  داماد کو حصہ دینا چاہیے یا نہیں؟

​وضاحت: میری بیوی کی متروکہ  جائیداد میں ایک دکان ہے اور کچھ زیور بھی ہیں میرا داماد مجھ سے اپنی بیوی یعنی میری بیٹی کے حصے کا تقاضہ کر رہا ہے، براہِ کرم  میری مرحومہ بیوی کی وراثت تقسیم کر دیں۔

ان کے ورثاء میں:​شوہر، دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔

2۔کیا سمدھن سے نکاح کرنا جائز ہے؟

سمدن: یعنی بیٹا یا بیٹی کی ساس۔

جواب

1- واضح رہے کہ  وراثت اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ ایک قطعی حق ہے۔ اور کسی بھی شخص کو یہ اختیار نہیں کہ وہ مرحوم/ مرحومہ کے کسی بھی شرعی وارث کو والدین کی خدمت نہ کرنے، نافرمانی کرنے، یا داماد کے نامناسب رویے کی بنیاد پر وراثت سے محروم کردے۔لہذا صورت مسئولہ میں داماد کا سائل کی بیٹی کو اس کی والدہ سے ملنے اور خدمت سے روکنا جائز نہیں تھا، تاہم والدہ کی خدمت نہ کرنے کی بناء پر بیٹی اپنی والدہ کے ترکے سے محروم نہیں ہوگی، وہ بدستور وارث ہے، لیکن اس کے شوہر کااپنی ساس کے ترکے میں کوئی حق نہیں، اس لیے اسے مطالبے کا بھی کوئی حق نہیں۔

پس سائل کی مرحومہ بیوی کےترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ ترکہ میں سے سب سے پہلے  مرحومہ کے حقوقِ متقدمہ یعنی  اگر ان کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اس کو ادا کرنے کے بعد ،اگر انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو توباقی ترکہ کے ایک تہائی  حصہ  میں اسے نافذ  کرنے کے بعد، باقی  ماندہ  کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو     20 حصوں میں تقسیم کرکے مرحومہ  بیوی کے شوہر کو 5 حصے، مرحومہ کے ہر ایک بیٹے کو 6 حصے اور مرحومہ کی اکلوتی بیٹی کو 3 حصےملیں گے۔

صورت تقسیم یہ ہے:

میت   سائل کی بیوی:20/4

شوہر(سائل)بیٹابیٹابیٹی
13
5663

یعنی فیصد  کے اعتبار سے مرحومہ بیوی کے شوہر کو ترکہ کا  25 فیصد،  مرحومہ کے  ہر ایک بیٹے  کو 30 فیصد اور مرحومہ بیوی کی اکلوتی بیٹی کو 15 فیصد ملےگا۔

2۔صورت  مسئولہ میں  سمدھی اور سمدھن کا نکاح آپس میں جائز ہے، اگر ان دونوں کے درمیان حرمت کا  نسبی یا رضاعی  کوئی رشتہ نہ ہو۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"لا بأس بأن يتزوج الرجل امرأة ويتزوج ابنه ابنتها أو أمها، كذا في محيط السرخسي."

(كتاب النكاح، الباب الثالث في بيان المحرمات، القسم الثاني المحرمات بالصهرية، ج:١، ص:٢٧٧، ط: دار الفكر)

رد المحتار علي الدر المختارمیں ہے:

"قال الخير الرملي: ولا تحرم بنت زوج الأم ولا أمه ولا أم زوجة الأب ولا بنتها ولا أم زوجة الابن ولا بنتها ولا زوجة الربيب ولا زوجة الراب. اهـ."

(كتاب النكاح، فصل في المحرمات، ج:٣، ص:٣١، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801100270

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں