بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سامان منزل تک پہنچانے کے بعد اس میں ہونے والے نقصان کا حکم


سوال

میں نے کئی چیزیں کرایہ پر پہنچانے کے لیے لی تھیں اور اس کو  منزل مقصود تک یعنی دو یا تین کلومیٹر کے فاصلے پر کسی گودام میں  پہنچا کررکھ دیا اور مالک کو کہا اپنے سامان کو اٹھا لو اور مالک اس کے اٹھانے کی کوشش میں لگ گیا اور میں وہاں سے چلاگیا دو تین گھنٹے بعد وہ مال یا سامان چور لےگئےیا ہلاک ہوگیا، تو اب اس صورت میں اس گودام تک میرے کرایہ کا حق بنتا ہے یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں سائل سے کرایہ کا معاملہ صرف سامان گودام تک پہنچانے کا ہواتھا، اور سائل نے سامان وہاں پہنچا دیا تو سائل اجرت کا حق دار ہوگیا۔ بعد میں وہاں سامان کو نقصان پہنچا تو سائل اس کا ذمہ دار نہیں اور نہ اس وجہ سے سائل کی اجرت میں کوئی کمی کرنا یا روکنا جائز ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"إن استأجره ليحمله إلى موضع كذا .... يجبر على أن يحمل إلى المكان الذي شرط فإذا حمل يستوفي جميع الأجرة..."

(كتاب الإجارة،الباب الثاني متى تجب الأجرة وما يتعلق به من الملك وغيره،4/ 413،ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702100711

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں