
میں نے کئی چیزیں کرایہ پر پہنچانے کے لیے لی تھیں اور اس کو منزل مقصود تک یعنی دو یا تین کلومیٹر کے فاصلے پر کسی گودام میں پہنچا کررکھ دیا اور مالک کو کہا اپنے سامان کو اٹھا لو اور مالک اس کے اٹھانے کی کوشش میں لگ گیا اور میں وہاں سے چلاگیا دو تین گھنٹے بعد وہ مال یا سامان چور لےگئےیا ہلاک ہوگیا، تو اب اس صورت میں اس گودام تک میرے کرایہ کا حق بنتا ہے یا نہیں؟
صورت مسئولہ میں سائل سے کرایہ کا معاملہ صرف سامان گودام تک پہنچانے کا ہواتھا، اور سائل نے سامان وہاں پہنچا دیا تو سائل اجرت کا حق دار ہوگیا۔ بعد میں وہاں سامان کو نقصان پہنچا تو سائل اس کا ذمہ دار نہیں اور نہ اس وجہ سے سائل کی اجرت میں کوئی کمی کرنا یا روکنا جائز ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"إن استأجره ليحمله إلى موضع كذا .... يجبر على أن يحمل إلى المكان الذي شرط فإذا حمل يستوفي جميع الأجرة..."
(كتاب الإجارة،الباب الثاني متى تجب الأجرة وما يتعلق به من الملك وغيره،4/ 413،ط:دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100711
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن