بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ثمن کی جہالت کی وجہ سے بیع فاسد ہوتی ہے


سوال

میں  کسی دکان دار کو سو من گندم دیتا ہوں اور اسے یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ اسے جس طرح چاہے استعمال کرے، خواہ آگے فروخت کرے یا اپنے پاس رکھے۔ گندم دیتے وقت اس کی کوئی قیمت مقرر نہیں کی جاتی۔ بعد میں جب گندم کی قیمت بڑھ جاتی ہے تو میں اس سے بڑھتی ہوئی قیمت کے مطابق وصول کرتا ہوں، اور اگر قیمت کم ہو جائے اور مجھے ضرورت ہو تو کم قیمت کے مطابق لے لیتا ہوں، اور دکان دار بھی اس پر راضی ہوتا ہے۔ عام طور پر اس معاملے میں نیت کاروبار اور منافع کی ہوتی ہے، نہ قرض کی نیت ہوتی ہے اور نہ امانت کی۔ اس مسئلہ کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟اگر کوئی جواز کی صورت بنتی ہو تو وہ بھی بتا دیجئے!

جواب

صورتِ مسئولہ میں دکان دار کو سو من گندم دیتے وقت آپ کی نیت کاروبار اور نفع کمانے کی ہوتی ہے تو یہ فروختگی کا معاملہ ہے اور کسی بھی چیز کی فروختگی کا معاملہ شرعاً درست ہونے کی من جملہ شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ بیچی گئی چیز کی قیمت متعین اور معلوم ہو، اگر قیمت متعین کیے بغیر کوئی چیز فروخت کی جائے تو ایسی فروختگی (بیع) فاسد ہے، لہذا آپ کا قیمت متعین کیے بغیر دکان دار کو گندم دے کر قیمت بڑھنے پر بڑھتی ہوئی قیمت کے مطابق اس کے دام وصول کرنا جائز نہیں ہے،البتہ اگر گندم دیتے وقت قیمت متعین کر لی جائے تو پھر یہ فروختگی جائز ہوگی، یا اس کو قرض کے طور پر دےدے جب لینا ہو اس وقت کی قیمت کے اعتبار سے رقم وصول کر لے تو جائز ہو گا۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"(ومنها) أن يكون المبيع معلوما وثمنه معلوما علما يمنع من المنازعة.

فإن كان أحدهما مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة فسد البيع، وإن كان مجهولا جهالة لا تفضي إلى المنازعة لا يفسد؛ لأن الجهالة إذا كانت مفضية إلى المنازعة كانت مانعة من التسليم والتسلم فلا يحصل مقصود البيع، وإذا لم تكن مفضية إلى المنازعة لا تمنع من ذلك؛ فيحصل المقصود وبيانه في مسائل: إذا قال: بعتك شاة من هذا القطيع أو ثوبا من هذا العدل فالبيع فاسد؛ لأن الشاة من القطيع والثوب من العدل مجهول جهالة مفضية إلى المنازعة لتفاحش التفاوت بين شاة وشاة، وثوب وثوب، فيوجب فساد البيع،فإن عين البائع شاة أو ثوبا وسلمه إليه ورضي به جاز."

(كتاب البيوع، فصل في شرائط الصحة في البيوع، ج:5، ص:157، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وفسد) بيع (ما سكت) أي وقع السكوت (فيه عن الثمن) كبيعه بقيمته.

(قوله ما سكت فيه عن الثمن) ؛ لأن مطلق البيع يقتضي المعاوضة فإذا سكت كان غرضه القيمة فكأنه باع بقيمته فيفسد ولا يبطل درر."

 (كتاب البيوع، باب:البيع الفاسد، ج:5، ص:60، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101416

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں