بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سامان تجارت کی مالیت کے بقدر اگر قرض بھی ہو تو زکات کے وجوب کا حکم


سوال

میری ایک دکان ہے جس میں تقریباً 70 ہزار روپے کا سامان ہے،اس کے علاوہ دکان میں جو کام کیا یعنی الماریاں وغیرہ بنائی ہیں ،وہ اس کے علاوہ ہے،توزکات  ادا کرنے کی صورت میں، میں اس موجودہ سامان کے ساتھ اس سامان کی مالیت کو بھی جمع کروں گا جو الماریوں وغیرہ پر آئی ہے؟ یا صرف جو خریدوفروخت کا سامان ہے اس کی مالیت پر زکوۃ لازم ہوگی؟

نیز اس میں مجھ پر تقریباً 70 ہزار قرضہ بھی ہے جو بعض دوکان کے سامان کا ہے اور بعض گھر کی ضروریات وغیرہ کے لیے لیا تھا تو اس صورت میں میرے لیے زکوۃ کی ادائیگی کی کیا صورت ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی شخص کے پاس قابل زکوۃ اموال موجود ہوں اور جتنی مالیت موجود ہے اتنی ہی مقدار میں اس شخص پر قرض بھی ہے ، یا یہ مالیت کم ہے اور قرض زیادہ ہے تو اس شخص پر زکوۃ فرض نہیں ہے۔اسی طرح اگر مقروض کے پاس اتنی مالیت ہے کہ قرض اداکرنے کے بعد بقیہ مال نصاب کو نہیں پہنچتا بلکہ نصاب سے کم ہے تو اس صورت میں بھی نصاب سے کم مالیت پر زکوۃ نہیں ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً سائل کی دوکان میں موجود سامان تجارت کی   مالیت 70 ہزار  روپے ہے اور کوئی مال زکاۃ نہیں،   تو اس پر زکات لازم نہیں ہے، اسی طرح الماریاں وغیرہ اگر فروخت کرنے کے لیے نہیں لیے گئے ہیں تو اس کی مالیت پر بھی زکات نہیں ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے :

"وأما فيما سوى الأثمان من العروض فإنما يكون الإعداد فيها للتجارة بالنية ؛ لأنها كما تصلح للتجارة تصلح للانتفاع بأعيانها بل المقصود الأصلي منها ذلك فلا بد من التعيين للتجارة وذلك بالنية."

(كتاب الزكاة، ج:2، ص:11، ط:دار الكتب العلمية)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"ولو اشترى قدورا من صفر يمسكها ويؤاجرها لاتجب فيها الزكاة كما لاتجب في بيوت الغلة، ولو دخل من أرضه حنطة تبلغ قيمتها قيمة نصاب ونوى أن يمسكها أو يبيعها فأمسكها حولاً لاتجب فيه الزكاة، كذا في فتاوى قاضي خان. ولو أن نخاسًا يشتري دواب أو يبيعها فاشترى جلاجل أو مقاود أو براقع فإن كان بيع هذه الأشياء مع الدواب ففيها الزكاة، وإن كانت هذه لحفظ الدواب بها فلا زكاة فيها كذا في الذخيرة. وكذلك العطار لو اشترى القوارير، ولو اشترى جوالق ليؤاجرها من الناس فلا زكاة فيها؛ لأنه اشتراها للغلة لا للمبايعة، كذا في محيط السرخسي. والخباز إذا اشترى حطبًا أو ملحًا لأجل الخبز فلا زكاة فيه."

(كتاب الزكاة، الباب الثالث، ج:1، ص:180، ط:دار الفكر۔بيروت)

فتح القدير  میں ہے:
"(ومن كان عليه دين يحيط بماله فلا زكاة عليه ) وقال الشافعي : تجب لتحقق السبب وهو ملك نصاب تام .
ولنا أنه مشغول بحاجته الأصلية فاعتبر معدوما كالماء المستحق بالعطش وثياب البذلة والمهنة ( وإن كان ماله أكثر من دينه زكى الفاضل إذا بلغ نصابا ) لفراغه عن الحاجة الأصلية ، والمراد به دين له مطالب من جهة العباد حتى لا يمنع دين النذر والكفارة."

(كتاب الزكاة، ج:2، ص:160، ط:دار الفكر۔بيروت)

فقط و الله أعلم


فتویٰ نمبر : 144608100826

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں