بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 محرم 1448ھ 17 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کے الفاظ سے درود شریف کا ثبوت


سوال

درود و سلام (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ یہ درود کون سی حدیث سے ثابت ہے ؟

جواب

’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘   کے الفاظ میں درود شریف بے شمار  احادیث میں منقول ہے،  صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے دور سے لے کر آج تک  یہ درود شریف حدیث بیان کرنے والوں اور سننے والوں کے زبان پر حدیث بیان کرتے اور سنتے وقت جاری رہتا ہے۔ احادیث مبارکہ کے تمام کتابوں میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم گرامی کے ساتھ یہ درود شریف لکھی ہوئی ہے۔ گویا کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم گرامی کے ساتھ  مذکورہ درود شریف کا پڑھنا یا لکھنا ایک متواتر عمل ہے، جو کہ مستقل ایک دلیل کی حیثیت رکھتی ہے۔

اس کے علاوہ  بخاری شریف کی ایک روایت کی ظاہری الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت جبرئیل  علیہ السلام نے بھی آپ علیہ السلام کے اسم گرامی کے ساتھ یہ درود شریف پڑھا ہے، اور مسلم شریف کی  ایک  روایت کے ظاہری الفاظ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان  ہی الفاظ کے ساتھ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی حضرت عیسی ابن مریم علیہ السلام پردرود وسلام پڑھاہے۔  یہ  ایک مکمل اور مختصر درود شریف ہے۔ لہذا  مذکور درود شریف سے آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم  پر درود  وسلام بھیجنا جائز ہے۔ اس کے پڑھنے سے بھی درود شریف کا ثواب اور برکات حاصل ہوں گی۔

الرواية الأولى:

"عن أنس بن مالك قال: كان أبو ذر يحدث: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: فرج عن سقف بيتي، وأنا بمكة، فنزل جبريل، ففرج صدري، ثم غسله بماء زمزم...فعرج بي إلى السماء الدنيا، فلما جئت إلى السماء الدنيا، قال جبريل لخازن السماء: افتح، قال: من هذا؟ قال: هذا جبريل، قال: هل معك أحد؟ قال: نعم، معي محمد صلى الله عليه و سلم....".

(أخرجه الامام البخاري في صحيحه في باب كيف فرضت الصلوات في الإسراء (1/ 135) برقم (342)، ط. دار ابن كثير، اليمامة، بيروت، الطبعة الثالثة:  1407هـ 1987م)

الرواية الثانية:

"عن ابن جريج قال أخبرنى أبو الزبير أنه سمع جابر بن عبد الله يقول سمعت النبى -صلى الله عليه وسلم- يقول « لا تزال طائفة من أمتى يقاتلون على الحق ظاهرين إلى يوم القيامة - قال - فينزل عيسى ابن مريم صلى الله عليه وسلم...."

(أخرجه الإمام مسلم في باب نزول عيسى ابن مريم حاكما بشريعة نبينا محمد صلى الله عليه وسلم (1/ 95) برقم (412)، ط.  دار الجيل بيروت)

فقط والله ٲعلم


فتویٰ نمبر : 144507102203

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں