بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سیل ٹارگٹ مکمل کرنے کے لیے کمپنی کی طرف سے دیے گئے سیمپل کو فروخت کرنا


سوال

میں ایک فارماسیوٹکل کمپنی میں کام کرتا ہوں، کمپنی اپنی سیل بڑھانے کے لیے کچھ دوائیوں کے سیمپل بھیجتی ہے، جو ڈاکٹروں کو مریضوں کے لیے دیے جاتے ہیں ۔ اکثر اوقات ڈاکٹر وہ سیمپل فروخت کر دیتے  ہیں، تو ہم لوگ اپنی سیل کے ٹارگٹ کو پورا کرنے کے لیے وہ سیمپل کبھی کبھار خود ہی فروخت کرکے فارمیسی والوں کو اور میڈیکل اسٹور والوں کو اضافی رعایت دے کر اپنی سیل کا ٹارگٹ پورا کرتے ہیں، کیوں کہ اگر ہم ان کو اضافی رعایت نہ دیں تو وہ لوگ دوسرے شہروں سے مال منگواتے ہیں، اس لیے ہم خود ہی ان سیمپل کو اضافی رعایت کے ساتھ بیچ کر اپنا ٹارگٹ بھی پورا کرلیتے ہیں اور نوکری بھی بچالیتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا ایسا کرنا درست ہے؟

کیا ہم وہ سیمپل اپنی ضرورت کے لیے خود بھی استعمال کرسکتے ہیں جب کہ کمپنی کی طرف سے اجازت نہیں ہوتی؟ مینیجر کو اس بات کا علم ہوتا ہےلیکن وہ منع نہیں کرتا۔

جواب

صورت مسئولہ میں سائل کی حیثیت فارماسیوٹیکل کمپنی کے ملازم وکیل کی ہے، اور اسے کمپنی کی ادویات سے متعلق صرف ان کاموں کا اختیار حاصل ہے، جس کے سر انجام دینے کا کمپنی نے اسے حکم دے رکھا ہے، سائل چوں کہ کمپنی کی ادویات کا مالک نہیں، لہذا جو ادویات بطور سیمپل ڈاکٹرز کو دینے کے لیے فراہم کی گئی ہوں، انہیں سستے داموں دکانداروں کو فروخت کرنا سائل کے لیے ہرگز جائز نہیں، مذکورہ ادویات ڈاکٹرز کو مفت فراہم کرنا ضروری ہوگا، نیز ڈاکٹرز کے لیے بھی ایسی ادویات فروخت کرنا جائز نہیں ہوگا، ایسی ادویات مریضوں کو مفت فراہم کرنا لازم ہوگا۔

 النتف فی الفتاوی میں ہے:

"والاجارۃ لا تخلو: اماان تقع علی  وقت معلوم او عمل معلوم فان وقعت علی عمل معلوم فان وقعت علی عمل معلوم فلا تجب الاجرۃ الاباتمام العمل۔۔۔۔۔وان وقعت علی وقت معلوم فتجب الاجرۃ بمضی الوقت."

(کتاب الإجارۃ، معلومیة الوقت والعمل، ج: 2، ص: 559، ط: مؤسسة الرسالة)

رد المحتار میں ہے:

"(والثاني) وهو ‌الأجير (‌الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل."

(کتاب الإجارة، باب ضمان الأجیر، مبحث الاجیر الخاص، ج: 6، ص: 69، ط: سعید)

شرح المجلۃ میں ہے:

"لایجوز لأحد أن یاخذ مال أحد بلا سبب شرعي."

(مادۃ: 97، ج: 1، ص: 264، ط: رشیدیة)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144708101785

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں