بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 محرم 1448ھ 18 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سیل سے کم قیمت پر خریدا گئے سامان سے زکاۃ ادا کرنے میں کون سی قیمت کا اعتبار ہوگا؟


سوال

میں نے ایک برانڈ سےسیل کے دوران اپنے لئے 3جوڑے خریدے، کپڑے کی اصل قیمت 3499روپے تھی، مگر سیل میں مجھے ایک سوٹ 1900میں ملا، پھر ایک مستحقِ زکوۃ مل گیا، تو اس کو وہ تین جوڑے اور 6ہزار 3سو روپئے یعنی کل ملا کے 12ہزار روپے زکوۃ کی نیت سے دے دیے، تو کیا میری زکوٰۃ ادا ہوگئی؟نیز کپڑے میں زکوٰۃ ادا کرنے کےلئے مارکیٹ ویلیو معلوم کرنا یعنی بازار لے جا کر معلوم کرنا ضروری ہے، جبکہ ویب سائٹ پر اس برانڈ کے کپڑوں کی قیمت لگی ہوتی ہے، سیل کے وقت قیمت نیچے آتی ہے، اور سیل کے مقررہ وقت کے بعد قیمت واپس اوپر جاتی ہے۔

جواب

زکوۃ کی ادائیگی میں مال کی اس قیمت کا اعتبار ہوتا ہے، جو ادائیگی کے دن مارکیٹ میں ہو، یعنی مارکیٹ میں جو مال کی قیمتِ فروخت ہوگی اسی کا اعتبار ہوگا۔

لہذا مذکورہ صورت میں جب سائل نے کپڑے سیل کے دوران کم قیمت پر خریدے، پھر ان ہی کپڑوں کے ساتھ مزید رقم  ملا کر زکوۃ کی مد میں ادا کیے، تو کپڑے کی قیمت کا اعتبار زکوۃ کی ادا ئیگی والے دن کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق ہوگا، یعنی اگر سائل یہ کپڑے مارکیٹ میں فروخت کرے تو جو قیمتِ فروخت مارکیٹ میں کپڑے کی لگے گی وہ معتبر ہوگی، اگر مارکیٹ میں کپڑے کی قیمت زیادہ ہے، تو پھر اسی زیادہ قیمت کے مطابق زکوۃ ادا ہوگی، اور اگر مارکیٹ میں قیمت کم ہو، تو پھر کم قیمت کے مطابق زکوۃ ادا ہوگی۔غرض یہ کہ ادائیگی کے دن کپڑے کی مارکیٹ ویلیو (قیمتِ فروخت) کے مطابق زکوۃ ادا ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

" (وجاز دفع القيمة في زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غير الإعتاق) وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء. وفي السوائم يوم الأداء إجماعا، وهو الأصح، ويقوم في البلد الذي المال فيه ولو في مفازة ففي أقرب الأمصار إليه فتح.

(قوله وهو الأصح) أي كون المعتبر في السوائم يوم الأداء إجماعا هو الأصح فإنه ذكر في البدائع أنه قيل إن المعتبر عنده فيها يوم الوجوب، وقيل يوم الأداء. اهـ.وفي المحيط: يعتبر يوم الأداء بالإجماع وهو الأصح اهـ فهو تصحيح للقول الثاني الموافق لقولهما، وعليه فاعتبار يوم الأداء يكون متفقا عليه عنده وعندها. "

( کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الغنم، ج:2، س:286، ط:سعید )

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

" رجل له مائتا قفيز حنطة للتجارة حال عليها الحول، وقيمتها مائتا درهم، حتى وجبت عليها الزكاة، فإن أدى من عينها أدى ربع عشر عينها خمسة أقفزة حنطة، وإن أدى من قيمتها ربع عشر القيمة أدى خمسة دراهم، فإن لــم يـؤد، حتى تغير سعر الحنطة إلى زيادة وصارت تساوى أربعمائة، فإن أدى من عين الحنطة أدى ربع العشر خمسة أقفزة بالاتفاق، وإن أدى من القيمة أدى خمسة دراهم قيمتها يوم حولان الحول الذى هو يوم الوجوب عند أبي حنيفة، وعندهما يؤدى عشرة دراهم قيمتها يوم الأداء، فإن تغير سعر الحنطة إلى نقصان وصارت تساوى مائة إن أدى من عين الحنطة أدى خمسة أقفزة بلاخلاف، وإن أدى من القيمة أدى خمسة دراهم قيمتها يوم حولان الحول الذى هو يوم الوجوب، وعندهما يؤدى در همين ونصفا قيمتها يوم الأداء. "

( کتاب الزکاۃ، الفصل الثالث زکاۃ عروج التجارۃ، ج:3، ص:170، ط:مکتبۃ زکریا )

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101986

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں