بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سیل پرچیز کے کاروبار میں ادھار فروخت پر زائد رقم لینے کا شرعی حکم


سوال

 میرا کام سیل پرچیز کا ہے۔ میں ادھار پر بھی  دیتا ہوں اور اس پر کچھ اضافی رقم بھی لیتا ہوں۔ اب ایک دوست کو میں نے ایک بائیک لے کر دینی ہے جس کی قیمت 250,000 روپے ہے۔ وہ 150,000 روپے ابھی دے رہا ہے اور باقی 100,000 روپے میں  دو ماہ کا ٹائم ہے پیمنٹ واپسی کا۔ 

ایسی صورت میں کیا میں اس باقی رقم پر کچھ اضافی پیسے لے سکتا ہوں؟

جواب

اگر معاملہ اس طرح ہو کہ بائیک کی اصل قیمت 250,000 روپے ہے اور سائل  اسے   خرید کر   قبضے میں لینے کے بعداپنے دوست کو ادھار پر زیادہ قیمت میں فروخت کرے (مثلاً 260,000 یا 270,000 روپے) اور عقد یعنی سودا طے ہونے کے وقت ہی کل قیمت اور ادائیگی کی مدت طے کر لی جائے، اور جو قیمت بھی متعین ہووہی  وصول کی جائے، بعد میں اس قیمت میں کوئی اضافہ نہ کیا جائے، تو یہ شرعاً جائز ہے۔  اسے ادھار خرید وفروخت (بیع مؤجل) کہا جاتا ہے، جس میں مدت اور اثاثے کی قدر کے بڑھ جانے کی وجہ سے قیمت کچھ زیادہ رکھی جاتی ہے۔یہ بالاجماع جائز ہے، سود نہیں ۔

لیکن اگر بائیک اپنے دوست کو250,000روپے میں ہی بیچی گئی، پھر اس میں سے 150,000 روپے فوراً وصول کر لیے گئے،  اور بعد میں جو100,000روپے باقی ہیں ان پر الگ سے اضافی رقم اس وجہ سے لی جائے کہ ادائیگی میں دو ماہ کی مہلت  کے ساتھ ادھار دیا گیا ہے ؛ تو یہ درست نہیں، کیونکہ یہ قرض پر نفع لینا شمار ہوگا جو کہ سود کے حکم میں آتا ہے۔

فتح القديرمیں ہے:

"(قوله ويجوز البيع بثمن حال ومؤجل) لإطلاق قوله تعالى» {وأحل الله البيع} وما بثمن مؤجل بيع. وفي صحيح البخاري عن عائشة رضي الله عنها «اشترى رسول الله صلى الله عليه وسلم طعاما من يهودي إلى أجل ورهنه درعا له من حديد»، وفي لفظ الصحيحين: «طعاما بنسيئة»....(ولا بد أن يكون الأجل معلوما؛ لأن جهالته تفضي إلى المنازعة في التسلم والتسليم، فهذا يطالبه في قريب المدة وذاك في بعيدها) ولأنه عليه الصلاة والسلام في موضع شرط الأجل وهو السلم أوجب فيه التعيين حيث قال «من أسلف في تمر فليسلف في كيل معلوم ووزن معلوم إلى أجل معلوم»، وعلى كل ذلك انعقد الإجماع، وأما البطلان فيما إذا قال بعتكه بألف حالا وبألفين إلى سنة فلجهالة الثمن".

(‌‌كتاب البيوع، ج:6، ص:261، ط: شركة مكتبة ومطبعة مصفى البابي الحلبي وأولاده بمصر)

الأصل لمحمد بن الحسن  میں ہے:

"وإذا ‌باع ‌الرجل ‌بيعا ‌فقال ‌هو ‌بالنسيئة ‌بكذا ‌وبالنقد ‌بكذا ‌كذا ‌أو ‌قال ‌هو ‌إلى ‌أجل ‌كذا ‌بكذا ‌وكذا وإلى أجل كذا بكذا وكذا فافترقا على هذا فإنه لا يجوز بلغنا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه نهى عن شرطين في بيع قال محمد حدثنا بذلك أبو حنيفة رفعه إلى النبي صلى الله عليه وسلم".

(باب البيوع الفاسدة، ص:91، ط: مطبعة جامعة القاهرة)

بدائع الصنائعمیں ہے:

"(وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه «نهى عن ‌قرض ‌جر ‌نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض، فأما إذا كانت غير مشروطة فيه ولكن المستقرض أعطاه أجودهما؛ فلا بأس بذلك؛ لأن الربا اسم لزيادة مشروطة في العقد، ولم توجد، بل هذا من باب حسن القضاء، وأنه أمر مندوب إليه قال النبي عليه السلام: «خيار الناس أحسنهم قضاء".

(فصل في شرائط ركن القرض، ج:7، ص:395، ط: مطبعة شركة المطبوعات العلمية ومطبعة الجمالية بمصر)

ردّ المحتار ميں ہے:

"(قوله ‌كل ‌قرض ‌جر ‌نفعا ‌حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر".

(مطلب كل قرض جر نفعا حرام، ج:5، ص:166، ط: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي وأولاده بمصر)

فقط والله أعلم.


فتویٰ نمبر : 144709101423

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں