
جو جماعتیں رائیونڈ سے ایک سال کے لیے آتی ہیں، ان کا رخ قلعہ سیف اللہ سے سکھر یا پھر قلات سے کوئٹہ کی طرف ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک جماعت جو ڈیرہ مراد جمالی سے حب چوکی کی طرف جا رہی ہے۔ اب یہ جماعت ہر دو دن بعد 10 یا 15 کلومیٹر سفر طے کرتی ہے۔ اس لحاظ سے ان جماعتوں کو ڈیرہ مراد جمالی کی حدود سے نکلنے میں بہت وقت درکار ہوتا ہے، اور جب ڈیرہ مراد جمالی کی حدود ختم ہوتی ہیں تو اس وقت تک ان کا سفر 76 کلومیٹر نہیں ہوتا، بلکہ اس کے فوراً بعد 76 کلومیٹر مکمل ہوگا۔
اب سوال یہ ہے کہ ایسی جماعتیں دو رکعت نماز پڑھیں گی یا چار رکعت؟ اور اگر ان جماعتوں میں کوئی ایک شخص مقیم ہونے کی نیت کرلے تو کیا سب لوگوں کو چار رکعت نماز پڑھنی ہوگی؟ کیا اس کی گنجائش موجود ہے؟
اور اگر ان پر شرعاً دو رکعت نماز واجب تھی لیکن انہوں نے غلطی کی بنیاد پر چار رکعت پڑھ لی ہوں تو ان نمازوں کا کیا حکم ہوگا؟
اسی طرح پہلے کراچی کا سفر 55 کلومیٹر شمار کیا جاتا تھا، تو یہاں کے مفتیانِ کرام فرماتے تھے کہ جو شخص کراچی سے حیدرآباد سفر کرتا تھا وہ نماز قصر کرے۔ لیکن بعد میں انہوں نے فرمایا کہ چونکہ کراچی بہت پھیل گیا ہے، اس لیے اب حیدرآباد جانے والے چار رکعت ادا کریں گے، اور جب حیدرآباد کی حدود ختم ہوجائیں گی اور ان کا سفر 76 کلومیٹر سے زیادہ ہوجائے گا تو اس کے بعد وہ نماز قصر کریں گے۔
اب 2026 میں کراچی کی آبادی حیدرآباد تک جا پہنچی ہے۔ اسی طرح بلوچستان کی آبادی کا بھی یہی حال ہوچکا ہے۔ تو ایسی صورتِ حال میں احتیاط کا تقاضا کیا ہوگا؟
واضح رہے کہ اگر کوئی آدمی اپنے گھر سے تبلیغی جماعت کی تشکیل کے لیےرائیونڈ جاتا ہے، اور رائیونڈ اس کے گھر سے شرعی مسافت پر ہو اور وہ وہاں اقامت کی نیت بھی نہیں کرتا، تو وہ شخص مسافر کہلائے گا اور جہاں سے سفر شروع کرے گا، اس شہر کی آبادی کے ختم ہوتے ہی قصر نماز پڑھے گا، اس کے بعد جب اس کی رائیونڈ سے تشکیل کسی ایک شہر یا ایک گاؤں میں 15 دن یا اس سے زائد کی ہو تو اس شہر/گاؤں میں وہ جماعت مقیم کہلائے گی اور پوری نماز پڑھے گی، اور اگر مختلف شہروں یا گاؤں میں تشکیل ہو اور پندرہ دن سے پہلے گاؤں تبدیل کرکے دوسرے گاؤں میں جانا پڑے، تو اس صورت میں چونکہ جماعت کی اقامت ایک گاؤں پر 15 دن کی نہیں ہوگی؛ اس لیے یہ جماعت مسافر کہلائے گی اور قصر نماز پڑھے گی۔
1۔ لہذا صورت ِ مسئولہ میں سال کی پیدل جماعت کے تشکیل اگر جماعت کی پيدل تشکیل کسی ایک شہر یا بڑے گاؤں میں 15 دن یا اس سے زیادہ کے لیے ہو اور وہیں کی کئی مساجد میں جانا ہو تو اس شہر/گاؤں میں جماعت كے افراد مقیم کہلائيں گے اور پوری نماز پڑھیں گے خواہ وہاں کی کسی بھی مسجد میں چلی جائيں۔ اور اگر تشکیل کسی شہر یا گاؤں میں پندرہ دن سے کم ہو، تو وہ جماعت وہاں قصر نماز ادا کرےگی؛اگرچہ اس گاؤں کی کئی مساجد میں جا کر کام کرنا ہو۔
اسی طرح اگر کئی گاؤں میں تشکیل ہو اور ہر تین دن بعد یا کچھ دن (جو پندرہ دن سے کم ہوں) بعد گاؤں تبدیل کرکے دوسرے گاؤں میں جانا پڑتا ہو جس کا نام وغیرہ بھی الگ ہو اور مقامی لوگوں کے ہاں بھی وہ گاؤں بالکل علیحدہ شمار ہوتا ہو تو اس صورت میں چوں کہ جماعت کی اقامت ایک جگہ پر 15 دن کی نہیں ہو گی ؛ اس لیے جماعت كے لوگ مسافر ہو ں گے اور قصر (سفر کی) نماز پڑھيں گے۔
2۔اگر ان جماعتوں میں سے کوئی شخص مقیم ہونے کی نیت کرتا ہے، تو وہی مقیم کہلائے گااور پوری نماز پڑھے گا، باقی جوحضرات اقامت کی نیت نہیں کریں گے، وہ مسافر شمار ہوں گےاور قصر نماز ادا کریں گے۔
3۔صورتِ مسئولہ میں قصر نماز واجب ہونے کی صورت میں انہوں نے اگر پوری نماز ادا کر لی اور دوسری رکعت میں قعدہ بھی کیا ہو تو وہ نمازیں ادا شمار کی جائیں گی، ان کی قضا نہیں کرنی ہو گی؛لیکن ایسا کرنا برا ہے۔نیز یہ بات بھی واضح رہے کہ اگر جماعت کے ساتھی اگر اس گاؤں کے مقیم امام کی اقتداء میں نماز ادا کر تے ہیں، تو اتباع میں چار رکعات ادا کرنا لازم ہے۔
4۔رہی بات کراچی سے حیدرآباد جاتے وقت نماز پڑھنے کی تو اگر کوئی آدمی کراچی سے 48میل کے فاصلے والے مقامات پر، سفر کےارادہ سے نکلے، اور اس کا وہاں پر پندرہ دن سے کم قیام کا ارادہ ہو، تو کراچی شہر کی جہاں آبادی ختم ہو گی، وہیں سے قصر نماز ادا کرے گا۔حیدرآباد سے متعلق جو مسائل سائل نے ذکر کیے ہیں ،یہ شرعا درست نہیں ہیں ،آج بھی کراچی سے حیدرآباد جانے والے افراد راستے میں قصر کریں گے ۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما بيان ما يصير المسافر به مقيما: فالمسافر يصير مقيما بوجود الإقامة، والإقامة تثبت بأربعة أشياء: أحدها: صريح نية الإقامة وهو أن ينوي الإقامة خمسة عشر يوما في مكان واحد صالح للإقامة فلا بد من أربعة أشياء: نية الإقامة ونية مدة الإقامة، واتحاد المكان، وصلاحيته للإقامة.
(وأما) اتحاد المكان: فالشرط نية مدة الإقامة في مكان واحد؛ لأن الإقامة قرار والانتقال يضاده ولا بد من الانتقال في مكانين وإذا عرف هذا فنقول: إذا نوى المسافر الإقامة خمسة عشر يوما في موضعين فإن كان مصرا واحدا أو قرية واحدة صار مقيما؛ لأنهما متحدان حكما، ألا يرى أنه لو خرج إليه مسافرا لم يقصر فقد وجد الشرط وهو نية كمال مدة الإقامة في مكان واحد فصار مقيما وإن كانا مصرين نحو مكة ومنى أو الكوفة والحيرة أو قريتين، أو أحدهما مصر والآخر قرية لا يصير مقيما؛ لأنهما مكانان متباينان حقيقة وحكما، ألا ترى أنه لو خرج إليه المسافر يقصر فلم يوجد الشرط وهو نية الإقامة في موضع واحد خمسة عشر يوما."
(1/ 98، كتاب الصلاه، فصل ما يصير المسافر به مقيما، ط: دار الكتب العلمية)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر، كذا في الهداية."
(1/ 139، کتاب الصلوٰۃ،الباب الخامس عشر في صلاة المسافر، ط: رشیدیة)
فتاوی شامی میں ہے:
"فلو أتم مسافر إن قعد في) القعدة (الأولى تم فرضه و) لكنه (أساء) لو عامدا لتأخير السلام وترك واجب القصر وواجب تكبيرة افتتاح النفل وخلط النفل بالفرض، وهذا لا يحل كما حرره القهستاني بعد أن فسر أساء بأثم واستحق النار (وما زاد نفل) كمصلي الفجر أربعا (وإن لم يقعد بطل فرضه) وصار الكل نفلا لترك القعدة."
( كتاب الصلوة،باب صلوة المسافر،ج:2،ص:128، ط: سعید)
وفیہ ایضاً:
"(من خرج من عمارة موضع إقامته) من جانب خروجه وإن لم يجاوز من الجانب الآخر... (قاصدامسيرة ثلاثة أيام ولياليها)... (صلى الفرض الرباعي ركعتين)."
(كتاب الصلاة،باب صلاة المسافر، ج:2، ص:121، ط:سعید)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144711101709
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن