
میں اپنی بیٹی کے مسئلہ میں آپ سے مشورہ لینا چاہتی ہوں شادی کے کچھ ماہ بعد داماد نے گھر کے معمولی کام کاج کو لے کر بیٹی کو اتنی بری طرح مارا کہ اس کے چہرہ اور جسم پر نشان پڑگئے ناک سے خون نکل آیا اور گھر سے بھی نکالنا چاہا ، دو دن کے بعد جب مجھے پتہ چلا تو میں اسے اپنے گھر لے آئی اور بیٹھ کر بات کرنے کو کہا، کئی ماہ تک بیٹی بھی داماد سے بات چیت اور صلح کی کوشش کرتی رہی لیکن کوئی جواب نہیں ملا ،بیٹی نے شادی کےبعد ساس اور نند پر بھی مار پیٹ ہوتی ہوئی دیکھی، ان سب باتوں کو دیکھتے ہوئے بیٹی نے اور بڑوں نے علیحدگی کا فیصلہ کیا ،ایک مرتبہ بیٹھ کر بھی بات ہوئی لیکن سسرال والوں کی طرف سے بیٹی کے کردار پر الزام تراشی کی اور مار پیٹ سے بھی انکار کیا اس سب کے بعد بھی میں نے کچھ شرائط رکھ کر بیٹی کو بھیجنا چاہا لیکن اس نے صاف انکار کردیا اور کہا کہ اپنی شرائط اپنے پاس رکھو ،اور بیٹی سے بھی کئی بار یہ کہا کہ وہیں بیٹھی رہو ،ہم نے جو شرائط رکھی تھیں اس کے بعد یہ جملے کہے چھوڑنے کےلیے بالکل تیا ر نہیں کسی بھی طریقے سے ، دو سال کےبعد ہم نے کورٹ سے رجوع کیا داماد نے جج کے سامنے قبول کیا کہ اس نے مار پیٹ کی تھی لیکن نہ زبان سے طلاق دی نہ دستخط کئے ،اور نہ خلع کی اجازت دی ، ہمیں یہ خدشہ ہے کہ اس طرح خلع نہیں ہوتا تو کیا ان سب صورتوں کو دیکھ کر فسخ نکاح ہوسکتاہے اور اگر یہ دونوں صورتیں نہیں نکلتیں تو ہماری راہ نمائی کریں کہ اب ہم کیا کریں؟
صورتِ مسئولہ میں منسلکہ عدالتی خلع کی دستاویزات کابغور جائزہ لینے سے واضح ہوا کہ شوہر عدالت میں حاضر ہوا تھا اور شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ شوہر نے اسے زبانی یا فعلی طور پر بھی قبول نہیں کیا ۔لہذا یہ خلع شرعا معتبر نہیں ہے؛کیونکہ شرعا خلع کے معتبر ہونے کےلیے شوہر کی رضامندی ضروری ہے۔ تاہم اگر شوہر تشدد کرتاہے جو کہ سائلہ کی بیٹی کے لیے ناقابل برداشت ہو تو اس ظلم و ستم کی وجہ سے بیوی کو حق حاصل ہے کہ اس کی بنیاد پر عدالت سے نکاح فسخ کرالے۔ جس کی صورت یہ ہے کہ بیوی مسلمان جج کے سامنے تنسیخ نکاح کا مقدمہ دائر کرے اور اپنے دعوی کو دو گواہوں کی سے ثابت رے پھر متعلقہ جج شرعی شہادت کے بعد معاملہ کی پوری تحقیق کرے، اگربیوی کا دعویٰ دوشرعی گواہوں سے صحیح ثابت ہوجائے کہ شوہر مار پیٹ کرتاہے تو اس کے شوہر سے کہا جائے کہ اپنی اس حرکت سے باز آؤ یا طلاق دو ، ورنہ ہم تفریق کردیں گے، اس کے بعد بھی اگر وہ کسی صورت پر عمل نہ کرے تو قاضی یامسلمان جج دونوں کے درمیان تفریق کردے گااورتنسیخ نکاح کافیصلہ دے گا۔پھرتنسیخ نکاح کے فیصلہ کےبعدعدت گزرنےکےبعدسائلہ کی بیٹی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزادہوگی۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:
"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول ."
(کتاب الطلاق،فصل في شرائط ركن الطلاق وبعضها يرجع إلى المرأة،ج:3،ص:145،ط:دار الكتب العلمية)
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي میں ہے:
"رأي الفقهاء في التفريق للشقاق:لم يجز الحنفية والشافعية والحنابلة التفريق للشقاق أو للضرر مهما كان شديدا؛ لأن دفع الضرر عن الزوجة يمكن بغير الطلاق، عن طريق رفع الأمر إلى القاضي، والحكم على الرجل بالتأديب حتى يرجع عن الإضرار بها.وأجاز المالكية التفريق للشقاق أو للضرر، منعا للنزاع، وحتى لا تصبح الحياة الزوجية جحيما وبلاء، ولقوله عليه الصلاة والسلام: "لا ضرر ولا ضرار". وبناء عليه ترفع المرأة أمرها للقاضي، فإن أثبتت الضرر أو صحة دعواها، طلقها منه، وإن عجزت عن إثبات الضرر رفضت دعواها، فإن كررت الادعاء بعث القاضي حكمين: حكما من أهلها وحكما من أهل الزوج، لفعل الأصلح من جمع وصلح أو تفريق بعوض أو دونه، لقوله تعالى: {وإن خفتم شقاق بينهما، فابعثوا حكما من أهله وحكما من أهلها} [النساء:35/ 4]."
(القسم السادس، الباب الثانی،الفصل الثالث ،ج:9،ص:7060،ط:دار الفكر)
کفایت المفتی میں ہے:
" جواب:اگر شوہر کے مظالم نا قابل برداشت ہوں اور وہ طلاق بھی نہ دے اور عورت کی عصمت خراب ہونے کا اندیشہ ہو تو عورت کسی مسلمان حاکم کی عدالت سے اپنا نکاح فتح کر اسکتی ہے اور بعد حصول فسخ و انقضائے عدت دوسر انکاح کر سکتی ہے ۔"
(كتاب الطلاق،ج:6،ص:152،ط:دارالاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702102050
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن