
ایک شخص عذر کی وجہ سے نماز اس طرح پڑھتا ہے کہ قیام اور رکوع کھڑے ہوکر اپنی اصل حالت میں ،لیکن سجدہ کرسی پر بیٹھ کر اشارے سے کرتا ہے،تو کیا اس طرح نماز پڑھنا جائز ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص عذرکی وجہ سے زمین پر بیٹھ کر سجدہ کرنے پر قادر نہیں ہے، تو اس سے قیام کی فرضیت ساقط ہوجاتی ہے، اس لیے کہ قیام اور رکوع یہ دونوں سجدہ کے لیے وسیلہ ہیں، اگر کوئی شخص اصل سجدہ سے عاجز ہوجائے تو اس پر اس کْے وسیلہ کی فرضیت بھی ساقط ہوجائے گی۔
اب مذکورہ شخص اپنی نماز مکمل (زمین یا کرسی پر) بیٹھ کر اشارے سے پڑھے یا قیام اور رکوع کھڑے ہوکر کرے اور سجدہ اشارے سے کرے، دونوں صورتوں جائز ہیں، چاہے وہ قیام اور رکوع کھڑے ہونے کی حالت میں کرے اور سجدہ بیٹھ کر اشارہ سے کرے، یا مکمل نماز بیٹھ کر اشارے سے ادا کرے۔ البتہ دوسری صورت یعنی مکمل نماز بیٹھ کر پڑھے (خواہ زمین پر بیٹھ کر پڑھ رہاہو یا کرسی پر) زیادہ بہتر ہے، تاہم اس صورت میں سجدہ میں رکوع کی بنسبت ذرا زیادہ جھکے۔البتہ جب فرض نماز مسجد میں باجماعت پڑھے،اس صورت میں چونکہ صفیں سیدھی کرنا سنت مؤکدہ ہے اس لیے صف میں کرسی رکھ کر آگے کھڑا ہونے سے صدف بندی کی سنت رہ جائے گی،اس صورت میں کرسی پر بیٹھ کر صف بندی کرکے نماز ادا کرے،کیونکہ ایسے معذور پر قیام فرض نہیں ،بلکہ نفل ہے،اور نفل پر سنت مؤکدہ(صفوں کی درستگی)کی ترجیح دینی چاہیے۔
الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:
""(وإن تعذرا) ليس تعذرهما شرطاً بل تعذر السجود كاف (لا القيام أومأ) بالهمز (قاعداً) وهو أفضل من الإيماء قائماً؛ لقربه من الأرض، (ويجعل سجوده أخفض من ركوعه) لزوماً (ولا يرفع إلى وجهه شيئاً يسجد عليه) فإنه يكره تحريماً (فإن فعل) بالبناء للمجهول ذكره العيني (وهو يخفض برأسه لسجوده أكثر من ركوعه صح) على أنه إيماء لا سجود إلا أن يجد قوة الأرض (وإلا) يخفض (لا) يصح؛ لعدم الإيماء.
(قوله: بل تعذر السجود كاف) نقله في البحر عن البدائع وغيرها. وفي الذخيرة: رجل بحلقه خراج إن سجد سال وهو قادر على الركوع والقيام والقراءة يصلي قاعداً يومئ؛ ولوصلى قائماً بركوع وقعد وأومأ بالسجود أجزأه، والأول أفضل؛ لأن القيام والركوع لم يشرعا قربةً بنفسهما، بل ليكونا وسيلتين إلى السجود. اهـ. قال في البحر: ولم أر ما إذا تعذر الركوع دون السجود غير واقع اهـ أي لأنه متى عجز عن الركوع عجز عن السجود نهر. قال ح: أقول على فرض تصوره ينبغي أن لا يسقط؛ لأن الركوع وسيلة إليه ولايسقط المقصود عند تعذر الوسيلة، كما لم يسقط الركوع والسجود عند تعذر القيام.... (قوله: أومأ قاعداً)؛ لأن ركنية القيام للتوصل إلى السجود فلايجب دونه ... (قوله: لقربه من الأرض) أي فيكون أشبه بالسجود، منح."
(کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ المریض،ج؛2،ص:90،ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701100510
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن