بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سجدے میں پاؤں زمین پر نہ لگائے تو کیا حکم ہے ؟


سوال

سجدے کے دوران اگر پاؤں اوپر ہو تو کیا نماز ٹوٹ جاتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ سجدے کے دوران دونوں پیروں کا زمین پر رکھنا ضروری ہے۔ اگر پورے سجدے میں دونوں پاؤں زمین سے بالکل اٹھے رہیں تو سجدہ ادا نہیں ہوگا۔ البتہ اگر کم از کم ایک پاؤں کی ایک انگلی بھی سجدے میں زمین پر ٹھہر جائے تو فرض ادا ہو جائے گا اور نماز صحیح ہو جائے گی۔

لہٰذا اگر کوئی شخص سجدے کے دوران زمین پر اپنے پاؤں یا پاؤں کے کسی حصے (کم از کم ایک انگلی) کو رکھنے پر قادر ہو تو اس کے لیے سجدے کے دوران اتنا حصہ زمین پر رکھنا ضروری ہے۔ اگر کسی نے قدرت کے باوجود بلا عذر پورے سجدے کے دوران پاؤں یا کم از کم پاؤں کی ایک انگلی بھی زمین پر نہ رکھی تو یہ عمل مکروہِ تحریمی ہے۔ ایسی صورت میں نماز تو نہیں ٹوٹے گی، لیکن سجدہ ادا نہیں ہوگا اور نماز واجب الاعادہ ہوگی۔ 

اور اگر سجدے کے دوران ایک رکن کی مقدار کے برابر (یعنی اعتدال کے ساتھ ایک مرتبہ تسبیح کہنے کے بقدر) پاؤں زمین پر رہیں، لیکن درمیان میں یا سجدے کے شروع یا آخر میں زمین سے اٹھ جائیں تو اگر یہ عذر کی وجہ سے ہو تو کوئی حرج نہیں، اور اگر بلا عذر ہو تو مکروہ ہوگا۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"‌ولو ‌سجد ‌ولم ‌يضع ‌قدميه على الأرض لا يجوز ولو وضع إحداهما جاز مع الكراهة إن كان بغير عذر. كذا في شرح منية المصلي لابن أمير الحاج ووضع القدم بوضع أصابعه وإن وضع أصبعا واحدة فلو وضع ظهر القدم دون الأصابع بأن كان المكان ضيقا إن وضع إحداهما دون الأخرى تجوز صلاته كما لو قام على قدم واحدة. كذا في الخلاصة."

(كتاب الصلاة، الباب الرابع في صفة الصلاة، الفصل الأول في فرائض الصلاة، ج:1، ص:70، ط:المكتبة الرشيدية كوئته)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(ومنها السجود) بجبهته وقدميه، ووضع إصبع واحدة منهما شرط.

وفي الرد: (قوله: وقدميه) يجب إسقاطه؛ لأن وضع إصبع واحدة منهما يكفي كما ذكره بعد ح. وأفاد أنه لو لم يضع شيئاً من القدمين لم يصح السجود وهو مقتضى ما قدمناه آنفاً عن البحر، وفيه خلاف سنذكره في الفصل الآتي."

(کتاب الصلاۃ، باب صفة الصلاة، مطلب:قد يطلق الفرض علي ما يقابل الركن ألخ، ج:1، ص:447، ط:ايج ايم سعيد)

الجوہرۃ النیرۃ میں ہے:

"‌ومن ‌شرط ‌جواز ‌السجود أن لا يرفع قدميه فيه فإن رفعهما في حال سجوده لا تجزئه السجدة وإن رفع أحدهما قال في المرتبة يجزئه مع الكراهة، ولو صلى على الدكان وأدلى رجليه عن الدكان عند السجود لا يجوز وكذا على السرير إذا أدلى رجليه عنه لا يجوز."

(کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، ج:1، ص:53، ط:المطبعة الخيرية مصر)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144709102002

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں