بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سجدہ کرنے پر قادر نہ ہونے کی صورت میں کرسی کے مقابلے میں زمین پر بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے


سوال

 میرے گھٹنوں میں تکلیف ہے جس کی وجہ سے نماز پڑھنے میں مسئلہ درپیش رہتا ہے، خاص کر سجدے میں جانے میں بڑی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،نماز پڑھنے کا وہ طریقہ بتائیں جو شریعت کے مطابق سب سے افضل طریقہ ہو، کرسی پر بیٹھ کر پڑھیں، جب جماعت کھڑی ہو تو کھڑے ہو جائیں، سجدے کے وقت بیٹھ جائیں۔ کرسیوں کا رواج ابھی آیا ہے ،اس سے پہلے زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے، کیا زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنا افضل ہے؟ رہنمائی فرمائیں

جواب

صورت مسئولہ میں اگر آپ گھٹنوں کے درد کی وجہ سے زمین پر ماتھا ٹیک کر سجدہ کرنے پر قادر نہیں ہیں یا زمین پر ماتھا ٹیک کر سجدہ کرنے میں سخت تکلیف ہوتی ہے تو ایسی صورت میں آپ پر نماز میں قیام کرنا لازم نہیں ہے، آپ کے لیے مکمل نماز بیٹھ کر پڑھنا اور رکوع و سجدہ اشارے سے ادا کرنا جائز ہے، بیٹھ کر نماز پڑھنے کی کوئی خاص ہیئت شریعت مطہرہ میں متعین نہیں ہے، جس طرح سہولت ہو اس ہیئت میں بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھی جاسکتی ہے، خواہ زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھی جائے یا کرسی پر بیٹھ کر، دونوں صورتیں جائز ہیں، البتہ زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے، لہذا اگر آپ زمین پر بیٹھ کر نماز ادا کرسکتے ہیں تو زمین پر بیٹھ کر نماز ادا کریں، یہ طریقہ کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرنے سے زیادہ بہتر ہے، لیکن اگر آپ کو زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنے میں مشقت ہوتی ہو تو ایسی صورت میں آپ نماز کے شروع ہی سے کرسی پر بیٹھ کر اشارے سے رکوع و سجدہ ادا کرتے ہوئے نماز پڑھ لیا کریں۔ کرسی پربیٹھ کراشارے کےساتھ نماز پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ نماز شروع کرتے وقت کرسی پر بیٹھ کر معمول کے مطابق ہاتھ باندھیں،  مکمل نماز بیٹھ کر بغیر قیام کے ادا کریں، اور سجدہ میں رکوع کی بنسبت ذرا زیادہ جھکیں ۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(بركوع وسجود وإن قدر على بعض القيام) ولو متكئا على عصا أو حائط (قام) لزوما بقدر ما يقدر ولو قدر آية أو تكبيرة على المذهب لأن البعض معتبر بالكل (وإن تعذرا) ليس تعذرهما شرطا بل تعذر السجود كاف (لا القيام أومأ) بالهمز (قاعدا) وهو أفضل من الإيماء قائما لقربه من الأرض (ويجعل سجوده أخفض من ركوعه) لزوما (ولا يرفع إلى وجهه شيئا يسجد عليه) فإنه يكره تحريما (فإن فعل) بالبناء للمجهول ذكره العيني (وهو يخفض برأسه لسجوده أكثر من ركوعه صح) على أنه إيماء لا سجود إلا أن يجد قوة الأرض (وإلا) يخفض (لا) يصح؛ لعدم الإيماء.

(قوله :بل تعذر السجود كاف) نقله في البحر عن البدائع وغيرها. وفي الذخيرة: رجل بحلقه خراج إن سجد سال وهو قادر على الركوع والقيام والقراءة يصلي قاعدا يومئ؛ ولو صلى قائما بركوع وقعد وأومأ بالسجود أجزأه، والأول أفضل لأن القيام والركوع لم يشرعا قربة بنفسهما، بل ليكونا وسيلتين إلى السجود. اهـ. قال في البحر: ولم أر ما إذا تعذر الركوع دون السجود غير واقع اهـ أي لأنه متى عجز عن الركوع عجز عن السجود نهر. قال ح: أقول على فرض تصوره ينبغي أن لا يسقط؛ لأن الركوع وسيلة إليه ولايسقط المقصود عند تعذر الوسيلة، كما لم يسقط الركوع والسجود عند تعذر القيام ... (قوله: أومأ قاعداً)؛ لأن ركنية القيام للتوصل إلى السجود فلايجب دونه ... (قوله: لقربه من الأرض) أي فيكون أشبه بالسجود، منح ."

(‌‌كتاب الصلاة،‌‌باب صلاة المريض، ص:2، ص:97-98، ط: سعید)

فتاوی تاتارخانیۃ میں ہے:

"فإن كان يقدر علي القيام ولايقدر علي السجود أومي إيماء وهو قاعد ،كذا ذكره الشيخ الأئمة الحلواني والسرخسي ، وذكر الشيخ المعروف بخواهر زاده  والشيخ الصفار أنه بالخيار إن شاء صلي قائما بإيماء وإن شاء قاعدا بإيماء وهو الأفضل عندنا."

(كتاب الصلاة،الفصل الحادي والثلاثون في صلاة المريض ،670/2،ط: مكتبة زكريا بديوبند،الهند)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100039

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں