
ہدایہ جلد اول کی ایک عبارت مجھے سمجھ نہیں آرہی ہے برائے کرم اس عبارت کی اس طرح تشریح کریں کہ تمام مسائل واضح ہوجائیں ۔
عبارت درج ذیل :
"ومن سلم وعليه سجدتا السهو فدخل رجل في صلاته بعد التسليم فإن سجد الإمام كان داخلا وإلا فلا" وهذا عند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله وقال محمد رحمه الله هو داخل سجد الإمام أو لم يسجد لأن عنده سلام من عليه السهو لا يخرجه عن الصلاة أصلا لأنها وجبت جبرا للنقصان فلا بد من أن يكون في إحرام الصلاة وعندهما يخرجه على سبيل التوقف لأنه محلل في نفسه وإنما لا يعمل لحاجته إلى أداء السجدة فلا يظهر دونها ولا حاجة على اعتبار عدم العود ويظهر الإختلاف في هذا وفي انتقاض الطهارة بالقهقهة وتغير الفرض بنية الإقامة في هذه الحالة "
مذکورہ بالا عبارت کی تشریح اس طرح کریں کہ تمام مسائل واضح ہوجائیں، اور آخر عبارت میں "تغیر الفرض" پر مولانا عبدالحی لکھنویؒ کے لکھے گئے حاشیہ اور ہدایہ کی مذکورہ بالا عبارت میں فرق واضح کریں؛ تاکہ تعارض رفع ہوجائے، اور مفتی ٰ بہ قول کی نشان دہی کریں۔
عبارت کی تشریح :
صاحب ہدایہ نے ایک اختلافی مسئلہ بیان کیا اور پھر اس اختلاف کے ثمرہ کو ظاہر کرنے کے لئے تین تفریعات بیان کی ہیں ۔
مسئلہ :یہ ہے کہ اگر کسی شخص پر سجود سہو باقی تھے، اور اس نے سلام پھیر دیا، تو اس کی نماز باقی ہے یا ختم ہوگئی ہے ؟تو حضرات شیخین فرماتے ہیں اگر اس نے دوبارہ سجدہ سہو کرلیا، تو اس کی نماز باقی ہے، اگر سجدہ سہو نہیں کیا تو اس کی نماز ختم ہوچکی ہے، اور امام محمد فرماتے ہیں کہ ہر صورت میں اس کی نماز باقی ہے، اس پر صاحب ہدایہ نے تین تفریعات بیان کی ہیں ، اب نمبر وار تفریعات کو بیان کیا جاتاہے ۔
تفریع نمبر 1:
اگر کسی شخص پرسجودسہوواجب ہو ں ،اور اس نے انھیں ادا کیے بغیر سلام پھیر دیا پھر سلام پھیرنے کے بعد کوئی اورشخص اس کی نماز میں داخل ہوا ،تو حضرات شیخین کےنزدیک وہ شخص امام کی نماز میں شامل اور داخل نہیں شمار کیا جائے گا، لیکن اگراس شخص کے داخل ہونے بعد امام نے سجود سہو کرلئےتو وہ شخص اس امام کی اقتدا میں داخل شمار کیا جائے گا ۔ حضرت امام محمد ؒ فرماتے ہیں کہ وہ شخص ہر حال میں امام کی نماز میں شامل و داخل ہوگا، خواہ امام نے سجدۂ سہو کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ امام محمد ؒ کی دلیل یہ ہے کہ ان کے یہاں جس شخص پر سجدہ سہو واجب ہے اس کا سلام پھیرنا اس شخص کو نماز سے مطلقاً خارج نہیں کرتا ، نہ تو حقیقتا خارج کرتا ہے اور نہ ہی موقوفاً ، اس لیے کہ سجدہ سہو نماز میں پیدا ہونے والی کمی کی تلافی کے لیے اداء کیا جاتا ہے اور نماز میں پیدا شدہ کمی کی تلافی کرنے کے لیے خود نمازی کا نماز میں ہونا ضروری ہے، اس لیے صورت مسئلہ میں سلام پھیرنے کے بعد یہ شخص نماز میں موجود ہے اور جب نماز میں موجود ہے تو اس کی اقتداء کرنا بھی درست اور صحیح ہے، خواہ ابھی اس نے سجدہ سہو کیا ہو یا نہ کیا ہو۔
وعندهما الخ یہاں سے حضرات شیخین کی دلیل بیان کی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ ان حضرات کے یہاں جس شخص پر سجدہ سہو واجب ہے اگر وہ سلام پھیر دیتا ہے تو اس کا سلام پھیرنا اسے نماز سے موقوفا خارج کر دیتا ہے، اب اگر نمازی سلام کے بعد سجدہ سہو کر لیتا ہے تو سلام ( جو فرمان نبوى تحليلها التسلیم کی وجہ سے بذات خود محلل نماز ہے اور انسان کو نماز سے خارج کرنے والا ہے ) اپنا عمل نہیں کرتا اور اس شخص کو نماز سے خارج بھی نہیں کرتا ، لہذا جب بعد السلام سجدہ سہو کرنے کی صورت میں وہ شخص نماز سے خارج نہیں ہوا تو اس کا تحریمہ باقی ہے اور دوسرے شخص کے لیے اس کی اقتداء کرنا صحیح ہے، اس کے برخلاف اگر سلام کے بعد وہ شخص سجدہ سہو نہیں کرتا ہے تو سلام اپنا عمل تحلیل کر دے گا اور اس شخص کو نماز سے باہر کر دے گا اور جب یہ شخص نماز سے باہر ہو جائے گا تو پھر کسی دوسرے شخص کے لیے اس کی اقتداء کرنا بھی صحیح نہیں ہوگا ، اسی لیے ہم پہلے شخص کے سجدہ کرنے اور نہ کرنے کے مابین فرق کرتے ہیں اور علی الاطلاق دوسرے شخص کی اقتداء کو جائز نہیں قرار دیتے۔
تفریع نمبر 2:
ويظهر الإختلاف الخ فرماتے ہیں کہ جس طرح امام محمد اور حضرات شیخین کا اختلاف صورت مسئلہ میں ظاہر ہے، اس طرح قہقہہ سے وضو ٹوٹنے کی صورت میں بھی ظاہر ہوگا، چناں چہ جس شخص پر سجدۂ سہو واجب ہے، اگر اس نے سلام کے بعد قہقہہ لگا کر ہنس دیا تو امام محمد کے یہاں چونکہ ابھی اس کی نماز باقی ہے، اس لیے کہ مطلقاً اس کا وضو ٹوٹ جائے گا سواء كان سجد للسهو أم لا، اور حضرات شیخین کے یہاں اگر اس نے سجدہ سہو کر لیا تھا تب تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا ، اور اگر سجدہ سہو نہیں کیا تھا تب اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا، کیوں کہ اس صورت میں وہ شخص نماز سے باہر ہو چکا ہے،
تفریع نمبر 3:
اس طرح تغیر الفرض بنية الإقامة والے مسئلے میں بھی اختلاف رونما ہوگا، یعنی اگر کسی مسافر پر دور کعت والی نماز میں سجدۂ سہو واجب تھا اور اس نے سلام پھیرنے کے بعد اقامت کی نیت کر لی تو امام محمد کے یہاں مطلقا وہ شخص مقیم ہو جائے گا، جب کہ حضرات شیخین کے یہاں اگر اس نے سجدہ سہو کر لیا ہے تب تو مقیم ہوگا اور اس پر چار رکعات پڑھنا لازم ہوگا، لیکن اگر اس نے سجدہ سہو نہیں کیا ہے، تو چوں کہ وہ اپنی نماز سے خارج اور اس سے فارغ ہو چکا ہے، اس لیے اب اقامت کی نیت سے اس کی نماز چار رکعات میں تبدیل نہیں ہوگی ۔
نیز سائل نے لکھا ہے کہ علامہ عبدالحی لکھنو ی اور ہدایہ کی عبارت میں فرق بیان کریں ،حالانکہ حضرت نے اس حاشیہ میں مسئلہ کی صورت کو واضح کیا ہے اور حضرت نے جو حاشیہ لگا یا ہے وہ شرح بنایہ سے لیا ہے اور وہ صورت اسی حاشیہ سے لے کر مذکورہ بالا عبارت میں واضح کردی ہے، لہذا ان میں کوئی تعارض ہے ہی نہیں ہے چہ جائے کہ اس کو رفع کیا جائے۔اور مزید ہدایہ کا وہ حاشیہ بھی حوالہ جات میں شامل کیا جاتا ہے
اور مذکورہ مسئلہ میں مفتیٰ بہ قول حضرات شیخین کا ہے جیساکہ فتح القدیر اور رد المحتار میں ہے، ان کتب کے علاوہ دیگر کتب میں بھی حضرات شیخین کے قول کو ترجیح دی ہے ۔
البنایہ میں ہے :
" (وفي انتقاض الطهارة بالقهقهة) ش: أي وتظهر فائدة الاختلاف المذكور يعني إن ضحك الذي سلم، وعليه سجود السهو تنقض طهارته عند محمد وزفر، لأنه ضحك في حرمة الصلاة، وعندهما لا تنقض، وكذلك لو ضحك المقتدي في هذه الحالة(وتغير الفرض بنية الإقامة) ش: أي وتظهر أيضا فائدة الخلاف المذكور في تغير الفرض بنية الإقامة يعني المسافر إذا نوى الإقامة في هذه الحالة قبل سجود السهو، فعند محمد وزفر يتغير فرضه أربعا كما نوى قبل السلام، وعندهما لا يتغير فرضه سواء سجد للسهو أو لا،"
(باب سجود السهو،ج:2،/ص: 627،ط:دار الكتب العلمية ، بيروت)
فتح القديرمیں ہے :
"ثم ظهر أن الاحتمالين قولان للمشايخ حكاه خلافا صريحا بينهم في البدائع، منهم من اختار الثاني، ومنهم من اختار الأول.
قال: وهو أسهل لتخريج الفروع والتوقف في بقاء التحريمة، وبطلانها أصح لأن التحريمة واحدة، فإذا بطلت لا تعود إلا بإعادة ولم توجد اهـ."
(باب سجود السهو،ج:1،ص: 515،دار الفكر، بيروت)
رد المحتار میں ہے :
"(صح) بناؤه (لبقاء التحريمة ويعيد) هو والمسافر (سجود السهو على المختار) لبطلانه بوقوعه في خلال الصلاة (سلام من عليه سجود سهو يخرجه) من الصلاة خروجا (موقوفا) إن سجد عاد إليها وإلا لا وعلى هذا (فيصح) الاقتداء به ويبطل وضوءه بالقهقهة،"
(باب سجود السهو،ج:2،/ص: 89،ط:سعید)
ہدایہ کے حاشیہ میں ہے حضرت علامہ عبد الحی لکھنوی ؒ لکھتے ہیں :
"قولہ: وتغير الفرض بنية الإقامة يعني المسافر إذا نوى الإقامة في هذه الحالة قبل سجود السهو، فعند محمد وزفر يتغير فرضه أربعا كما نوى قبل السلام، وعندهما لا يتغير فرضه سواء سجد للسهو أو لا،۱۲ب"
(باب سجود السهو،ج:1ص:127،حاشیۃ نمبر 17،ط:رحمانیۃ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100890
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن