بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سعی کے لیے وضو کرنا مستحب ہے


سوال

عمرہ میں سعی کے تیسرے چکّر میں پیشاب کپڑوں میں نکل گیا اور ایسے ہی سعی مکمل کر لی اسکا کیا حکم ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ سعی کرتے وقت جنابت، حیض اور نفاس (یعنی حدثِ اکبر) سے پاک ہونا سعی کی سنتوں میں سے ہے، جبکہ حدثِ اصغر سے پاک ہونا اور لباس و بدن کا نجاست سے پاک ہونا مستحب ہے۔ اسی طرح سعی کے لیے وضو کرنا بھی مستحب ہے۔ لہٰذا اگر کسی شخص نے صفا و مروہ کی سعی بغیر وضو کے کی تو اس کی سعی صحیح ہو جائے گی۔

صورتِ مسئولہ میں سائل کی سعی بغیر وضو کے صحیح ہو گئی، اس پر کوئی دم یا کفارہ وغیرہ لازم نہیں ہے۔

فتاوى ہندیہ میں ہے:

"والحيض والجنابة لا يمنعان صحة السعي كذا في محيط السرخسي. والأصل أن كل عبادة تؤدى لا في المسجد من أحكام المناسك فالطهارة ليست من شرطها كالسعي والوقوف بعرفة والمزدلفة ورمي الجمار ونحوها، وكل عبادة في المسجد فالطهارة من شرطها، والطواف يؤدى في المسجد كذا في شرح الطحاوي."

 (كتاب المناسك، الباب الخامس في كيفية أداء الحج، ج:1،  ص: 227، ط:دار الفكر بيروت)

غنية الناسك ـ  میں ہے:

 أما عن الحدث الأصغر وعن النجاسة في الثوب والبدن ومكان الطواف فليس من واجبات السعي بل من سننه، 

ولا يجب فيه الطهارة عن الجنابة والحيض سواء كان سعي عمرة أو حج؛ لأنه عبادة تؤدى لا في المسجد الحرام."

(باب السعي بين الصفا والمروة، فصل في واجبات السعى، ص:216، ط:دار ابن حزم)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101862

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں