بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

صاحب نصاب شخص کا ضرورت کا مکان یا پلاٹ خریدنے کے لئے زکوۃ لینے کا شرعی حکم


سوال

میرے پاس کچھ رقم موجود ہے، جو نصاب سے زائد ہے، لیکن پلاٹ یامکان خرید نے کے لئے ناکافی ہے، اگر میں پلاٹ یا مکان کا سواد کر لوں، اور اپنے پاس موجود رقم  ادا کردوں، تو بقیہ رقم کی ادائیگی کے لئے زکوہ لے سکتا ہوں یا نہیں ؟
جبکہ میرے پاس سونا، چاندی ،مال تجارت نہیں ہے ،جو نقدی ہے، وہ مکان یا پلاٹ  خرید نے کے لئے ناکافی ہے ۔

جواب

صورت مسئلولہ میں جب تک سائل کے پاس نصاب کے بقدر رقم موجود ہے، تو سائل اس صورت میں مکان یا پلاٹ  خرید نے کے لئے  زکوۃ نہیں لے سکتا ہے،بلکہ اس  نصاب کی ہر سال کی  زکوۃ دینی  ہوگی ، البتہ اگر مکان کا سودا کر لیا ،اور یہ مقروض ہوگیا، تو  اپنا قرض اتارنے کے لئے اگر حاجات اصلیہ کے علاوہ  نہ اتنا مال  سائل کے پاس ضرورت سے زائد موجود ہو اور نہ ہی لوگوں پر قرض ہے  ،جس سے  اپنا قرضہ اتار سکے ،تو ایسی صورت میں قرض کی ادائیگی کے لئے اگر کوئی زکوۃ دیتا ہے تو  سائل کے لئے زکوۃ لینا جائز ہے ۔

ملاحظہ: یہ سوال کا جواب ہے سائل کے حق میں نہ سفارش ہے اور نہ واقعہ کی تصدیق ہے۔

فتاوی شامی میں ہے :

(ولا) يحل أن (يسأل) من القوت (من له قوت يومه) بالفعل أو بالقوةكالصحيح المكتسب ويأثم معطيه إن علم بحاله لإعانته على المحرم (ولو سأل للكسوة) أو لاشتغاله عن الكسب بالجهاد أو طلب العلم (جاز) لو محتاجا. 

(قوله: للكسوة) ومثلها أجرة المسكنومرمة البيت الضرورية لا ما يشتري به بيتا فيما يظهر،

 (كتاب الزكاةباب مصرف الزكاة والعشر،ج:2،ص: 355،ط:سعید)

وفیہ ایضا:

"ما في البدائع وغيرها، على ما إذا أمسكه لينفق منه كل ما يحتاجه فحال الحول، ‌وقد ‌بقي ‌معه ‌منه ‌نصاب ‌فإنه ‌يزكي ‌ذلك ‌الباقي، وإن كان قصده الإنفاق منه أيضا في المستقبل لعدم استحقاق صرفه إلى حوائجه الأصلية وقت حولان الحول،"

 (كتاب الزكاة،ج:2، ص:262،ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"(ومنها الغارم) ، وهو من لزمه دين، ولا يملك نصابا فاضلا عن دينه أو كان له مال على الناس لا يمكنه أخذه كذا في التبيين. والدفع إلى من عليه الدين أولى من الدفع إلى الفقير كذا في المضمرات."

 (کتاب الزکوٰۃ،الباب السابع في المصارف،ج:1، ص:188، ط:المکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144705100661

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں