بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سحر وجادو سے متعلق وعیدیں


سوال

سحر وجادو سے متعلق کیاوعیدیں ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کسی مسلمان کو بلاوجہ کسی بھی قسم کی تکلیف دینا ہرگز درست نہیں ہے،حدیث شریف میں آتا ہے کہ ”مسلمان تو وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ کی ایذاؤں سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔“ اور کسی مسلمان پر ناحق جادو یا سفلی عمل کرنا یا کروانا یا اس میں کسی بھی قسم کا تعاون کرنا سب ناجائز ،  حرام اور باعثِ گناہ عمل ہے، ایسا کرنے والا اللہ تعالیٰ کی امان اور اس کی حفاظت سے نکل جاتا ہے، چنانچہ اگر جادو کے اس عمل  میں کفریہ الفاظ استعمال کیے جاتے ہوں یا اس کو حلال سمجھ کر کیا یا کروایا جاتا ہو  تو یہ ”کفر“ ہے، اور اس کی سزا آخرت میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی ناراضگی اور  ہمیشہ  ہمیشہ کے لیے نہ ختم ہونے والی عذاب ہے، جبکہ دنیا میں اس کی سزا ”قتل“ ہے، البتہ اگر اس میں کفریہ  عقائد و کلمات نہ ہوں اور یہ عمل کرنے/ کرانے والا اس کو حلال بھی نہیں سمجھتا ہو ،لیکن ا س کے ذریعے لوگوں کو جانی یا مالی نقصان پہنچایا جاتا ہو  تو اس طرح کرنے اور کروانے والا ”فاسق“ ہے اور اس کا حکم رہزنوں جیسا ہے، یعنی ایسی صورت میں بھی زمین میں فتنہ وفساد کو ختم کرنے کے لیے مصلحتاً اسے قتل کیا جائے گا، لیکن قتل کی سزا دینے کا اختیار ہرکس وناکس کو نہیں بلکہ یہ اختیار حاکم وقت یعنی اسلامی ریاست  کو ہے۔

الغرض ناحق جادو کرنے اور کروانے پرقرآن و حدیث میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، منجملہ ان میں سے چند درج ذیل ہے:

قرآن مجید میں اللہ تعالی نے  جادوگر کو فلاح و کامیابی والا قرار نہیں دیا:

"﴿ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَى ﴾ "[طـه: 69]

ترجمہ:” اور جادوگر کہیں جاوے کامیاب نہیں ہوتا۔“ (بیان القرآن)

اللہ تعالی نے جادو کو کفریہ عمل قرار دیا ہے:

"وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ وَمَا هُمْ بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمْ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنْفُسَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ﴾" [البقرة: 102]

ترجمہ:”  اور انہوں نے ایسی چیز کا (یعنی سحر کا) اتباع کیا جس کا چرچا کیا کرتے تھے شیاطین (یعنی خبیث جن) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے عہد سلطنت میں اور حضرت سلیمان (علیہ السلام نے) کفر نہیں کیا،  مگر (ہاں) شیاطین کفر کیا کرتے تھے اور حالت یہ تھی کہ آدمیوں کو بھی (اس) سحر کی تعلیم کیا کرتے تھے اور اس (سحر) کا بھی جو کہ ان دونوں فرشتوں پر نازل کیا گیا تھا شہربابل میں جن کا نام ہاروت و ماروت تھا  اور وہ دونوں کسی کو نہ بتلاتے جب تک یہ (نہ) کہہ دیتے کہ ہمارا وجود بھی ایک امتحان ہے سو تو کہیں کافر مت بن جائیو (کہ اس میں پھنس جاوے) سو (بعضے) لوگ ان دونوں سے اس قسم کا سحر سیکھ لیتے تھے جس کے ذریعہ سے (عمل کر کے) کسی مرد اور اس کی بیوی میں تفریق پیدا کردیتے تھے اور یہ (ساحر) لوگ اس کے ذریعہ سے کسی کو بھی ضرر نہیں پہنچا سکتے، مگر خدا ہی کے (تقدیری) حکم سے اور ایسی چیزیں سیکھ لیتے ہیں جو (خود) ان کو ضرر رساں ہیں اور ضرور یہ (یہودی) بھی اتناجانتے ہیں کہ جو شخص اس کو اختیار کرے ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ (باقی) نہیں اور بیشک بری ہے ، وہ چیز (یعنی سحرو کفر) جس میں وہ لوگ اپنی جان دے رہے ہیں کاش ان کو (اتنی) عقل ہوتی۔“ (بیان القرآن)

صحیح بخاری  میں ہے:

"عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده، والمهاجر من هجر ما نهى الله عنه»."

(باب المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده، ج:1، ص:13، رقم:10، ط:دار اليمامة دمشق)

ترجمہ: ”حضرت عبد للہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: مسلمان تو وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ کی ایذاؤں سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔“

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «‌اجتنبوا ‌السبع ‌الموبقات قالوا يا رسول الله! وما هن؟ قال! الشرك بالله والسحر وقتل النفس التي حرم الله إلا بالحق وأكل الربا وأكل مال اليتيم والتولي يوم الزحف وقذف المحصنات المؤمنات الغافلات»."

(كتاب الإيمان، باب الكبائر وعلامات النفاق، الفصل الأول، ج:1، ص:22، رقم:52، ط:المكتب الإسلامي بيروت)

ترجمہ: ”حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچوں، صحابہ نے عرض کیا، اللہ کے رسول! وہ کیا ہیں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک گرداننا، جادو کرنا، اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ جانوں کو ناحق قتل کرنا، الّا یہ کہ کسی حق کی وجہ سے قتل کیا جائے، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، معرکہ کے دن میدان جہاد سے پیٹھ پھیر کر فرار ہونا اور پاک دامن بھولی بھالی مسلمان عورتوں پر تہمت لگانا۔“

وفیھا ایضا:

"عن أبي موسى الأشعري أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " «ثلاثة لا تدخل الجنة: مدمن الخمر وقاطع الرحم ومصدق ‌السحر». رواه أحمد."

(مشكاة المصابيح، كتاب الحدود، باب بيان الخمر ووعيد شاربها، الفصل الثالث، ج:2، ص:1084، رقم:3656، ط:المكتب الإسلامي بيروت)

ترجمہ: ”حضرت ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: تین قسم کے لوگ جنت میں داخل نہیں ہوں گے، ایک: ہمیشہ شراب پینے والا، دوسرا: ناحق قطع تعلقی کرنے والا، تیسرا: جادو کی تصدیق کرنے والا اور اسے سچا جاننے والا۔“

المصنف عبدا لرزاق میں ہے:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من تعلم شيئا من ‌السحر قليلا ، أو كثيرا ، كان آخر عهده مع الله»."

(كتاب اللقطة، باب قتل الساحر، ج:10، ص:184، رقم:18753، رقن ط:المجلس العلمي الهند)

ترجمہ: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: جس نے جادو کا کچھ حصّہ بھی سیکھا، خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ، اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کا کوئی معاہدہ نہیں رہتا اور وہ اللہ تعالیٰ کے امان سے نکل جاتا ہے۔“

جامع الاصول میں ہے:

"عبد الله بن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من اقتبس بابا من علم النجوم لغير ما ذكر الله، فقد اقتبس شعبة من ‌السّحر، المنجّم كاهن، والكاهن ساحر، والساحر كافر».

وفي رواية: «من اقتبس علماً من النجوم اقتبس شعبة من ‌السحر، زاد ما زاد». أخرج أبو داود الثانية، والأولى ذكرها رزين."

(حرف النون، الكتاب الثامن: في النجوم، ج:11، ص:573، رقم:9197، ط:مكتبة دار البيان الكويت)

ترجمہ: ”حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ تعالیٰ کی یاد کے سوا کسی اور غرض سے علمِ نجوم کا کوئی بھی حصّہ سیکھا تو اس نے جادو کا ہی ایک حصّہ اخذ کیا ہے، نجومی کاہن ہے اور کاہن جادوگر ہے، اور جادوگر کافر ہے۔“

ایک اور روایت میں ہےکہ: ”جس نے علم نجوم کا کوئی حصّہ اخذ کیا تو اس نے اتنا ہی جادو اخذ کیا، وہ جتنا علمِ نجوم میں جتنا اضافہ کرے گا جادو میں بھی اتنا ہی اضافہ ہوگا۔“

صحیح الترغیب والترھیب میں ہے:

"وعن عمران بن حصين رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ليس منا من تَطيَّر أو تُطُيِّرَ له، أو تَكَهَّنَ أو تُكُهِّنَ له، أو سَحَر أو سُحِرَ له، ومن أتى كاهنا فصدّقه بما يقول؛ فقد كفر بما أنزل على محمد صلى الله عليه وسلم». رواه البزار بإسناد جيد."

(كتاب الأدب وغيره، الترهيب من السحر.....، ج:3، ص:170، رقم:3040، ط:مكتبة المعارف الرياض)

ترجمہ: ”حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم میں سے نہیں ہے جس نے بد شگونی کی، یا جس کے لیے بد شگونی کی گئی، یا جس نے کہانت (غیب دانی) کی، یا جس کے لیے کہانت کی گئی، جس نے جادو کیا، یا جس کے لیے جادو کیا گیا، اور جو شخص کاہن (غیب جاننے کا مدعی) کے پاس گیا اور اس کی باتوں کی تصدیق کی تو اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کردہ دین و شریعت کا انکار کیا۔“

فتح الباری میں ہے:

"قال النووي ‌عمل ‌السحر ‌حرام ‌وهو ‌من ‌الكبائر بالإجماع وقد عده النبي صلى الله عليه وسلم من السبع الموبقات ومنه ما يكون كفرا ومنه ما لا يكون كفرا بل معصية كبيرة فإن كان فيه قول أو فعل يقتضي الكفر فهو كفر وإلا فلا وأما تعلمه وتعليمه فحرام فإن كان فيه ما يقتضي الكفر كفر واستتيب منه ولا يقتل فإن تاب قبلت توبته وإن لم يكن فيه ما يقتضي الكفر عزر وعن مالك الساحر كافر يقتل بالسحر ولا يستتاب بل يتحتم قتله كالزنديق."

(قوله: باب السحر، ج:10، ص:224، ط:المكتبة السلفية مصر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144603101285

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں