
1- صحیح الاسناد اور2- حدیث غریب کسے کہتے ہیں ؟رہنمائی فرمائیں۔
جس روايت كو سند كے اعتبار سے تو صحیح قرار دیاجا سکے ، لیکن متن کے اعتبار سے صحیح قرار دیا جانا لازمی نہ ہو کہ متن شذوذ وعلل وغیرہ کے پائےجانے کے سبب صحیح قرار نہ دیا جا سکے ، البتہ بعض ماہرینِ فن کی فقط’’صحیح الاسناد‘‘ کہنے سے(جبکہ وہ متن میں کسی قسم کی علت وغیرہ کو ذکر نہ کریں) سند ومتن دونوں کی تصحیح بھی مرادہوا کرتی ہے ۔
’’مقدمہ ابن الصلاح ‘‘ میں ہے :
السابع: قولهم " هذا حديث صحيح الإسناد، أو حسن الإسناد " دون قولهم: " هذا حديث صحيح أو حديث حسن " لأنه قد يقال: " هذا حديث صحيح الإسناد "، ولا يصح، لكونه شاذا أو معللا.غير أن المصنف المعتمد منهم إذا اقتصر على قوله: إنه صحيح الإسناد، ولم يذكر له علة، ولم يقدح فيه، فالظاهر منه الحكم له بأنه صحيح في نفسه؛ لأن عدم العلة والقادح هو الأصل والظاهر، والله أعلم.
(معرفة أنواع علوم الحديث، النوع الثاني معرفة الحسن من الحديث، (ص: 38)، ط/ دار الفكر، بيروت)
وہ حدیث ہےجس کے پوری سندمیں کہیں نہ کہیں(شروع، درمیا ن، اخیر یا کہیں بھی سند میں ) ایک راوی ہو۔
’’نزہۃ النظر/شرح النخبة ‘‘ میں ہے :
" والرابع: الغريب: وهُو ما يتفرَّد بِروايَتِهِ شخصٌ واحِدٌ في أيِّ موضعٍ وَقَعَ التفردُ بِهِ مِنَ السَّنَدِ. "
(نزهة النظر، تعريف الغريب، (ص: 54)، ط/ مطبعة سفير بالرياض)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144412101336
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن