بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

صحیح الاسناد اور حدیث غریب کی تعریف


سوال

1- صحیح الاسناد اور2-  حدیث غریب کسے کہتے ہیں ؟رہنمائی فرمائیں۔

جواب

1- ’’صحیح الاسناد‘‘:

جس روايت كو سند كے اعتبار سے تو صحیح قرار دیاجا سکے ، لیکن  متن کے اعتبار سے صحیح قرار دیا جانا لازمی نہ ہو کہ متن  شذوذ وعلل  وغیرہ کے پائےجانے کے سبب صحیح قرار نہ دیا جا سکے ، البتہ بعض ماہرینِ فن کی فقط’’صحیح الاسناد‘‘ کہنے سے(جبکہ وہ متن میں کسی قسم کی علت وغیرہ کو ذکر نہ کریں)  سند ومتن دونوں کی تصحیح بھی  مرادہوا کرتی ہے ۔  

’’مقدمہ ابن الصلاح ‘‘ میں ہے : 

السابع: قولهم " هذا حديث صحيح الإسناد، أو حسن الإسناد " دون قولهم: " هذا حديث صحيح أو حديث حسن " لأنه قد يقال: " هذا حديث صحيح الإسناد "، ولا يصح، لكونه شاذا أو معللا.غير أن المصنف المعتمد منهم إذا اقتصر على قوله: إنه صحيح الإسناد، ولم يذكر له علة، ولم يقدح فيه، فالظاهر منه الحكم له بأنه صحيح في نفسه؛ لأن عدم العلة والقادح هو الأصل والظاهر، والله أعلم.

(معرفة أنواع علوم الحديث، النوع الثاني معرفة الحسن من الحديث، (ص: 38)، ط/ دار الفكر، بيروت) 

2- ’’حديث غريب‘‘: 

وہ حدیث ہےجس کے پوری سندمیں کہیں نہ کہیں(شروع، درمیا ن، اخیر یا کہیں بھی سند میں ) ایک راوی ہو۔

’’نزہۃ النظر/شرح النخبة ‘‘ میں ہے :  

" والرابع: الغريب: وهُو ما يتفرَّد بِروايَتِهِ شخصٌ واحِدٌ في أيِّ موضعٍ وَقَعَ التفردُ بِهِ مِنَ السَّنَدِ. " 

(نزهة النظر، تعريف الغريب، (ص: 54)، ط/ مطبعة سفير بالرياض)

فقط والله  اعلم 


فتویٰ نمبر : 144412101336

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں