
میں ایک صحافی ہوں ،میرا کام ہے کہ غلط کو غلط کہنا اور سچ کو سچ کہنا ،اب یہاں جو شخص چوری کرتاہےیا کرپشن کرتا ہے تو اس کو ہم میڈیا میں لاتے ہیں اور لازمی بات ہے کہ اس کے راز فاش ہوجاتے ہیں ،ہمارا اسلام کیا کہتا ہے اس حوالہ سے، جب کہ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ آپ کسی شخص کے عیب کو چھپاتے ہو تو اللہ پاک آپ کے عیب چھپائیں گے ؟
مختلف ذرائع سے خبریں جمع کرنا اور ان کو مرتب کرکے لوگوں کے سامنے پیش کرنایہ صحافت کا بنیادی مفہوم ہے، پرنٹ میڈیا اور الیکڑانک میڈیاکے مختلف پلیٹ فارم (اخبارات،رسائل،اشتہارات ، ریڈیو، ٹیلی ویثرن، کیبل نیٹ ورک، وغیرہ ) صحافت کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں ۔
شرعی حدود کا خیال رکھاجائے تو صحافت اپنے بنیادی مفہوم کے اعتبار سے ایک مباح عمل ہے،بلکہ شرعی حدود میں رہتے ہوئے اگر اچھی نیت اور نیک ارادہ کے ساتھ صحافت کی جائے تو اس پر ثواب کی بھی امید ہے۔
لیکن اگر شرعی حدود کا خیال نہ رکھاجائے جیسا کہ الیکٹرانک میڈیا کےمختلف پلیٹ فارم پر ہونی والی صحافت میں نظر آتا ہے،اسی طرح پرنٹ میڈیا کے پلیٹ فارم پر ہونے والی صحافت میں بھی اکثر یہی نظر آتا ہے تو اس طرز کے ساتھ صحافت شرعاً جائز نہیں ہے،چنانچہ دوسروں کے احوال کے بارے میں جستجو میں رہنا، بلاتحقیق خبر یں بیان کرنا،ناشائستہ اور غیر اخلاقی خبریں بیان کرنا، فحاشی اور عریانی کی تشہیر کرنا،اسلام مخالف مواد کی نشرو اشاعت،ہر سنی سنائی بات نقل کرنا ،جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ کہنا،ایسی خبریں نشر کرنا کہ جس سے مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق کے بجائے جنگ و جدل اور اختلافات پیدا ہوں ،دوسروں کے عیوب دس گناکرکے بیان کرنا وغیرہ امور کسی سے مخفی نہیں ہیں ۔
صحافت اور خبر رسانی کے متعلق شریعت مطہرہ کی بہت واضح تعلیمات ہمارے پاس موجود ہیں،ان کو سامنے رکھنا اور اس پر عمل کرنا ضروری ہے ،ذیل میں شریعت مطہرہ کی روشنی میں اصول و ہدایات ذکر کی جاتیں ہیں:
یہ صحافت کے چند رہنما اصول ہیں جن پر عمل کرکے صحافی خلاف ِ شرع صحافت اور خبر رسانی کے گناہ سے بچ سکتاہے۔
جہاں تک سائل کے سوال میں ذکر کردہ شبہ کا تعلق ہے تو ذکرکردہ اصول کی روشنی میں واضح ہوا کہ کسی مسلمان کے ایسے عیوب یا گناہ جن سے دوسرے لوگوں کی حق تلفی نہ ہوتی ہو اور وہ دوسروں کے ضرر کا سبب نہ ہوں، ایسے گناہوں کی پردہ پوشی کا حکم ہے، اور یہ مسلمان کا حق ہے، سائل نے جس حدیث شریف کا حوالہ دیا ہے، وہ اس نوعیت کے عیوب کی پردہ پوشی سے متعلق ہے۔
لیکن اگر اس کے عیوب یا گناہ ایسے ہوں جن سے دوسروں کی حق تلفی ہو اور وہ دیگر لوگوں کے ضرر کا حقیقتًا سبب بن رہے ہوں، تو ان کا اظہار کرنا درست بلکہ مطلوب ہے؛ تاکہ دیگر مسلمان بھائی اس شخص سے محتاط رہیں ، اس صورت میں اس شخص کے متعدی گناہ دیگر لوگوں کے سامنے بیان کرنا نہ صرف یہ کہ جائز ہے بلکہ یہ دیگرمسلمان بھائیوں کا حق ہے ۔
تاہم مکمل تحقیق و اطمینان اور قطعی ثبوت کے بغیر کسی کے عیوب کی تشہیر جائز نہیں ہے، لہٰذا محض سنی سنائی بات یا ناقص تحقیق اور غیر معتبر ذرائع سے حاصل معلومات نقل کرنا یا بہتان تراشی کرنا خود گناہ اور بہت ہی مذموم فعل ہے ،اس سے اجتناب ضروری ہے۔
قرآن مجید میں ہے:
" لا يُحِبُّ اللهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلاّ مَنْ ظُلِمَ وَكانَ اللهُ سَمِيعاً عَلِيماً"(سورة النساء،148)
ترجمہ :الله تعالیٰ بری بات زبان پر لانے کو پسند نہیں کرتے بجز مظلوم کے اور الله تعالیٰ خوب سنتے ہیں خوب جانتے ہیں ۔(بیان القرآن)
اس آیت کی تفسیر کے تحت تفسیر ِ عثمانی میں ہے:
’’ یعنی اگر کسی میں دین یا دنیا کا عیب معلوم ہو تو اس کو مشہور نہ کرنا چاہئے،خدا تعالی سب کی بات سنتا ہے اور سب کے کام کو جانتاہے،ہر ایک کو اس کے موافق جزادےگا،اسی کو غیبت کہتے ہیں،البتہ مظلوم کو رخصت ہے کہ ظالم کا ظلم لوگوں سے بیان کرے،ایسے ہی بعضی اور صورتوں میں غیبت روا ہے اور یہ حکم یہاں شاید اس لئے فرمایا کہ مسلمان کو چاہئے کہ کسی منافق کا نام مشہور نہ کرے اور علی الاعلان اس کو بدنام نہ کرے ،اس میں وہ بگڑکرشاید بےباک ہوجائے بلکہ مبہم نصیحت کرے،منافق آپ سمجھ لے گا یا تنہائی میں نصیحت کرے،اس طرح شاید ہدایت قبول کرلے،چنانچہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کرتے تھے، کسی کا نام لے کر مشہور نہیں فرماتے تھے۔‘‘
(ج:1،ص:473،ط:دار الاشاعت کراچی)
"يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جاءَكُمْ فاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْماً بِجَهالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلى ما فَعَلْتُمْ نادِمِينَ."(سورة الحجرات،6)
ترجمہ:اے ایمان والو اگر کوئی شریر آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لاوے تو خوب تحقیق کرلیا کرو کبھی کسی قوم کو نادانی سے کوئی ضرر نہ پہنچادو پھر اپنے کئے پر پچتانا پڑے ۔ (بیان القرآن)
"وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِناتِ بِغَيْرِ مَا اِكْتَسَبُوا فَقَدِ اِحْتَمَلُوا بُهْتاناً وَإِثْماً مُبِيناً."(سورۃ الاحزاب ،58)
ترجمہ:’’اور جو لوگ ایمان والے مردوں کو اور ایمان والی عورتوں کو بدون اس کے کہ انہوں نے کچھ کیا ہو ایذا پہنچاتے ہیں تو وہ لوگ بہتان اور صریح گناہ کا بار لیتے ہیں ‘‘۔ (بیان القرآن)
"وَإِذا جاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ وَلَوْلا فَضْلُ اللهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطانَ إِلاّ قَلِيلاً "(سورةالنساء،83)
ترجمہ:’’اور جب ان لوگوں کو کسی امر کی خبر پہنچتی ہے خواہ امن ہو یا خوف تو اس کو مشہور کردیتے ہیں اور اگر یہ لوگ اس کو رسول کے اور جوان میں سے ایسے امور کو سمجھتے ہیں ان کے حوالے پر رکھتے تو اس کو وہ حضرات توپہچان ہی لیتے جو ان میں اس کی تحقیق کرلیا کرتے اور اگر تم لوگوں پر خدا کا فضل اور رحمت نہ ہوتی تو تم سب کے سب شیطان کے پیرو ہوجاتے بجز تھوڑے سے آدمیوں کے ۔‘‘ (بیان القرآن)
اس آیت کی تفسیر کے تحت معارف القرآن میں ہے:
’’بے تحقیق باتوں کا اڑانا گناہ اور بڑا فتنہ ہے:-
اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہر سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق کے بیان نہیں کرنا چاہئے ، چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں فرمایا : کفی بالمرء کذباً ان یحدث بکل ماسمع ، ”یعنی کسی انسان کے جھوٹا ہونے کے لئے اتنی ہی بات کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بغیر تحقیق کے بیان کر دے۔“
ایک دوسری حدیث میں آپ نے فرمایا :من حدث بحدیث وھویری انہ کذب فھوا احد الکاذبین۔”یعنی جو آدمی کوئی ایسی بات بیان کرے جس کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ یہ جھوٹی ہے تو دو جھوٹوں میں سے ایک جھوٹا وہ بھی ہے۔“(تفسیر ابن کثیر) ولو ردوہ الی الرسول والی اولی الامرمنھم لعلمہ کہتے ہیں، کنواں کھودنے میں جو پانی پہلی مرتبہ نکلتا ہے اس کو ماء مستنبط کہتے ہیں، مگر یہاں مراد یہ ہے کہ کسی بات کی تہہ تک پہنچ کر اس کی صحیح حقیقت معلوم کرنا (قرطبی)۔ــ‘‘
(ج:2،ص:492،ط:مکتبہ معارف القرآن کراچی)
حدیث شریف میں ہے:
" قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ. "
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کر دے۔‘‘
(صحيح مسلم، باب النهى عن الحديث بكل ما سمع، (1/ 8) برقم (7)، ط/ دار الجيل بيروت)
وفي تفسير الرازي :
"لا يحب الله الجهر بالسوء من القول إلا من ظلم وكان الله سميعا عليما (148)
في الآية مسائل:
المسألة الأولى: في كيفية النظم وجهان: الأول: أنه تعالى لما هتك ستر المنافقين وفضحهم وكان هتك الستر غير لائق بالرحيم الكريم ذكر تعالى ما يجري مجرى العذر في ذلك فقال: لا يحب الله الجهر بالسوء من القول إلا من ظلم يعني أنه تعالى لا يحب إظهار الفضائح/ والقبائح إلا في حق من عظم ضرره وكثر مكره وكيده، فعند ذلك يجوز إظهار فضائحه، ولهذا
قال عليه الصلاة والسلام: «اذكروا الفاسق بما فيه كي تحذره الناس»
وهؤلاء المنافقون قد كان كثر مكرهم وكيدهم وظلمهم في حق المسلمين وعظم ضررهم، فلهذا المعنى ذكر الله فضائحهم وكشف أسرارهم. الثاني: أنه تعالى ذكر في هذه الآية المتقدمة أن هؤلاء المنافقين إذا تابوا وأخلصوا صاروا من المؤمنين، فيحتمل أنه كان يتوب بعضهم ويخلص في توبته ثم لا يسلم بعد ذلك من التعيير والذم من بعض المسلمين بسبب ما صدر عنه في الماضي من النفاق، فبين تعالى في هذه الآية أنه تعالى لا يحب هذه الطريقة، ولا يرضى بالجهر بالسوء من القول إلا من ظلم نفسه وأقام على نفاقه فإنه لا يكره ذلك."
(11/ 253،الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت)
وفي شرح النووي على مسلم :
"ومن ستر مسلما ستره الله يوم القيامة) في هذا فضل إعانة المسلم وتفريج الكرب عنه وستر زلاته ويدخل في كشف الكربة وتفريجها من ازالها بماله أوجاهه أو مساعدته والظاهر أنه يدخل فيه من أزالها بإشارته ورأيه ودلالته وأما الستر المندوب إليه هنا فالمراد به الستر على ذوي الهيئات ونحوهم ممن ليس هو معروفا بالأذى والفساد فأما المعروف بذلك فيستحب أن لا يستر عليه بل ترفع قضيته إلى ولي الأمر إن لم يخف من ذلك مفسدة لأن الستر على هذا يطمعه في الإيذاء والفساد وانتهاك الحرمات وجسارة غيره على مثل فعله هذا كله في ستر معصية وقعت وانقضت أما معصية رآه عليها وهو بعد متلبس بها فتجب المبادرة بإنكارها عليه ومنعه منها على من قدر على ذلك ولا يحل تأخيرها فإن عجز لزمه رفعها إلى ولي الأمر إذا لم تترتب على ذلك مفسدة وأما جرح الرواة والشهود والأمناء على الصدقات والأوقاف والأيتام ونحوهم فيجب جرحهم عند الحاجة ولا يحل الستر عليهم إذا رأى منهم ما يقدح في أهليتهم وليس هذا من الغيبة المحرمة بل من النصيحة الواجبة وهذا مجمع عليه قال العلماء في القسم الأول الذي يستر فيه هذا الستر مندوب فلو رفعه إلى السلطان ونحوه لم يأثم بالإجماع لكن هذا خلاف الأولى وقد يكون في بعض صوره ما هو مكروه والله أعلم."
(كتاب البر والصلة والآداب،باب تحريم الظلم،16/ 135،الناشر: دار إحياء التراث العربي)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(وكذا) لا إثم عليه (لو ذكر مساوئ أخيه على وجه الاهتمام لا يكون غيبة إنما الغيبة أن يذكر على وجه الغضب يريد السب) ولو اغتاب أهل قرية فليس بغيبة لأنه لا يريد به كلهم بل بعضهم وهو مجهول خانية فتباح غيبة مجهول ومتظاهر بقبيح ولمصاهرة ولسوء اعتقاد تحذيرا منه.
وفي تنبيه الغافلين للفقيه أبي الليث: الغيبة على أربعة أوجه: في وجه هي كفر.....وفي وجه: هي نفاق.....وفي وجه: هي معصية.........وفي وجه: هي مباح وهو أن يغتاب معلنا بفسقه أو صاحب بدعة وإن اغتاب الفاسق ليحذره الناس يثاب عليه لأنه من النهي عن المنكر اهـ."
(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج:6، ص:408،409، ط:سعید)
Oxford English Dictionary:
"jour-nal-ism:noun [U] the work of collecting and writing news stories for news-papers, magazines, radio or television."
Cambridge Dictionary:
"the work of collecting, writing, and publishing news stories and articles in newspapers and magazines or broadcasting them on the radio and television."
Britannica Encyclopedia:
"journalism: the activity or job of collecting, writing, and editing news stories for newspapers, magazines, television, or radio."
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144607101328
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن