بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

صحابہ کو گالی دینے والے کا حکم


سوال

کیاصحابہ کو گالی دینے والا کافرہے؟

جواب

واضح رہے کہ دینِ اسلام کا منبع اور سرچشمہ وحیِ الٰہی ہے،  خواہ وہ وحیِ الٰہی قرآن کریم کی صورت میں ہو یا سنتِ رسول اور احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کی صورت میں ہو۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  سے اس وحیِ الٰہی اور دینِ اسلام کو لینے کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ ہی نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین جیسی مقدس جماعت کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی صحبت، تعلیم اور تلقین کے لیے منتخب فرمایا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا اسلام اور شریعتِ اسلام میں خاص مقام ہے۔ یہ ایک ایسی مقدس جماعت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اور عام اُمت کے درمیان اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ایک واسطہ ہے۔صحابہ کرام سے محبت دین کا تقاضا ہے ،اور ان کو برابہلا کہنا دین سے دوری اور گمراہی ہے ۔احادیث مبارکہ میں صحابہ کرام کو برابہلا کہنے اور ان پر مذمت کرنے والوں کے بارے میں بہت سخت وعیدات آئی ہیں:

1۔  عن ابن عباس : قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من سب أصحابي فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين.

(المعجم الكبير للطبراني، ج: 12 ص: 142 برقم (12709)، ط: مكتبة ابن تيمية - القاهرة)

"ترجمہ :حضرت  ابن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں  کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے میرے صحابہ کو گالی دی  اس پر اللہ تعالی ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو۔"

2۔ عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: لا تسبوا أصحابي، لعن الله من سب أصحابي."

(المعجم الأوسط للطبراني، ج: 5،ص: 94، برقم (4771)، ط. دار الحرمين القاهرة)

"ترجمہ:حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا  فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میرے صحابہ کو برا بھلا مت کہو،اللہ کی لعنت ہو اس شخص پر جو میرے صحابہ کو برا کہے۔"

3۔عن أبي هريرة. قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "لا تسبوا أصحابي. فوالذي نفسي بيده! لو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبا، ما أدرك مد أحدهم، ولا نصيفه.

(صحيح مسلم،‌‌كتاب فضائل الصحابة رضي الله تعالى عنهم،باب تحريم سب الصحابة رضي الله عنهم، (4/ 1967)ط:دار إحياء التراث العربي۔بیروت)

"ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم میرے صحابہ کو برانہ کہو،قسم ہے اس ذات کے جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے حقیقت یہ ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر سونا اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو اس کا ثواب میرے صحابہ کے ایک مد یا آدھے مدکے ثواب کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا۔"

صحابہ میں سے کسی بھی صحابی کو گالی دینے سے انسان فاسق اور گمراہ ہوتاہے،  اصولی اعتبار سے  اسے کافر نہیں کہا جاتا،بشرطیکہ اس گالی کو حلال اور کار خیر نہ سمجھتاہو ،اگر اس کو حلال اور کار خیر سمجھتا ہو تو  اس سےکافر ہوجاتا ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"لما في الاختيار اتفق الأئمة على تضليل أهل البدع أجمع وتخطئتهم وسب أحد من الصحابة وبغضه لا يكون كفرا، لكن يضلل إلخ."

(کتاب الجھاد، باب المرتد، ج:4، ص:237، ط: ایچ ایم سعید)

مجموعہ رسائل ابن عابدین میں ہے:

"والحاصل أن الحكم بالكفر على ساب الشيخين أو غيرهما من الصحابة مطلقا قول ضعيفٌ لا ينغي الإفتاء به ولا التعويل عليه لما علمته من النقول المعتبرة، فإن الكفر أمر عظيم لم يتجاسر أحد من الأئمة على الحكم به إلا بالأدلة الواضحة العارية عن الشبهة، كماعلمته ما قررناه... قال المنلاعلي قاري:أمّامن سبّ من الصحابةفهوفاسقٌ ومبتدعٌ  بالإجماع إلا إذا اعتقد أنه مباح أو يترتب عليه ثوابٌ كما عليه بعض الشيعة،"

(رسالة، تنبیه الولاة،والحكام على شاتم خيرالأنام، ج:1، ص:591،592، ط: مکتبه رشیدیه)

فقط واللہ اعلم

 


فتویٰ نمبر : 144709100144

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں