
سفید بالوں کو کالے رنگ کے علاوہ رنگ دینا بہتر ہے یا اپنی حالت پر چھوڑنا بہتر ہے۔ ان دونوں میں مستحب اور بہتر عمل کونسا ہے؟ سیاہ رنگ کے علاوہ رنگ دینا یا اپنی حالت پر چھوڑنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کونسی ہیئت پسند فرمائی ہے ؟
مردوں کے لیے سر یا داڑھی کے بالوں کو سرخ مہندی وغیرہ سے رنگنا مسنون (سنت سے ثابت) ہے اور عورتوں کے لیے بھی بالوں میں سرخ خضاب اور مہندی لگانا جائز ہے، البتہ خالص سیاہ خضاب اور خالص سیاہ مہندی لگانا منع ہے، اس کے علاوہ کسی بھی رنگ (مثلاً سرخ ، یاسیاہی مائل رنگ)کاخضاب/مہندی لگاسکتےہیں۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:بڑھاپے (یعنی بالوں کی سفیدی) کو (خضاب کے ذریعے)بدل ڈالو اوریہودیوں کی مشابہت اختیار نہ کرو( کیوں کہ وہ سفید بالوں کو خضاب نہیں لگاتے)۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ"فتح الباری"میں لکھتے ہیں:
"وقد اختلف في الخضْب وترْكه، فخضبَ أبو بكر وعمر وغيرهما كما تقدّم، وتركَ الخضاب عليٌّ وأبيُّ بن كعب وسلمةُ بن الأكوع وأنسٌ وجماعةٌ، وجمع الطبريُّ بأنّ مَن صبغ منهم كان اللائق به كمن يُستشنع شيبُه، ومَن ترك كان اللائق به كمن لا يُستشنع شيبُه، وعلى ذلك حُمل قوله -صلّى الله عليه وسلّم- في حديث جابر الذي أخرجه مسلمٌ في قصة أبي قحُافة حيث قال -صلّى الله عليه وسلّم لما رأى رأسه كأنها الثُّغامة بياضاً: غيِّروا هذا وجنِّبوه السّواد، ومثلُه حديثُ أنسٍ الذي تقدّمت الإشارة إليه أوّل باب ما يُذكر في الشيب، وزاد الطبريُّ وبنُ أبي عاصم مِن وجهٍ آخر عن جابر فذهبوا به فحمَّروه. والثُّغامة -بضم المثلثة وتخفيف المعجمة-: نباتٌ شديدُ البياض زهرُه وثمرُه. قال: فمن كان في مثل حال أبي قحُافة استُحبَّ له الخضاب؛ لأنّه لا يحصل به الغرور لأحدٍ، ومَن كان بِخلافه فلا يُستحبُّ في حقه، ولكن الخضاب مطلقاً أولى؛ لأنّه فيه امتثالُ الأمر في مخالفة أهل الكتاب، وفيه صيانةٌ للشعر عن تعلّق الغبار وغيره به، إلاّ إنْ كان من عادة أهل البلد ترك الصبغ وأن الذي ينفرد بدونهم بذلك يصيرُ في مقام الشهرة فالتركُ في حقه أولى".
( كتاب اللباس، باب الخضاب، ج: 10،ص: 355،ط:دار المعرفة-بيروت)
’’خضاب لگانے/ نہ لگانے کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف روایات وارد ہیں ، اسی وجہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان اس مسئلہ میں اختلاف ہوا ہے،چنانچہ حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما وغیرہ حضرات خضاب لگاتے تھے،جب کہ حضرت علی،ابی بن کعب،سلمہ بن اکوع،انس رضی اللہ عنہم اور(اِن کے علاوہ) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت خضاب نہیں لگاتی تھی۔(حافظ محب الدین ) طبری رحمہ اللہ نے ( صحابہ کرام کے مابین اِن دونوں قسم کی آراء کو) یوں جمع کیا ہے کہ اُن حضرات میں سے جو رنگتے تھے(یعنی خضاب لگاتے تھے)اُن کےلیے مناسب یہی تھا،جیسے کسی شخص کے بالوں کی سفیدی بدنما معلوم ہورہی ہو (تو اُس کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ اُنہیں خضاب لگائے)،اور جو حضرات نہیں رنگتے تھے(یعنی خضاب نہیں لگاتے تھے) اُن کےلیے مناسب یہی تھا، جیسے کسی شخص کے بالوں کی سفیدی بدنما معلوم نہ ہورہی ہو (تو اُس کےلیے مناسب یہی ہے کہ وہ اُنہیں خضاب نہ لگائے)، اسی لیے حضرت ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کے سرکے بالوں کو ثغامہ( ایک پہاڑی درخت جس کے پھل اور پھول خوب سفید ہوتےہیں) کی مانند خوب سفیددیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد:’’اسے بدال ڈالو،مگر (بدلنے میں) سیاہ رنگ سے بچنا‘‘ اسی صورت پر محمول ہے،چنانچہ (آپ کے اس ارشاد کے بعد) لوگ انہیں لے گئے اور اُن کے بالوں کو سرخ کردیا(یعنی سرخ خضاب لگایا)،لہذا جس شخص کی حالت(بالوں کی سفیدی میں ) حضرت ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کی حالت کی طرح ہوتو اس کے لیے خضاب لگانا مستحب ہے،اور جس کی حالت اُن سے مختلف ہو اُس کے لیے مستحب نہیں۔البتہ مطلقاً (ہر حالت میں )خضاب لگانازیادہ بہتر ہے، کیوں کہ اِس میں اہلِ کتاب(یہودونصاری) کی مخالفت کرنےکے حکم کی بجا آوری ہے،نیز اِس میں بالوں کی غبار وغیرہ سے حفاظت رہتی ہے،تاہم اگر کسی شہر میں لوگوں کی عادت خضاب نہ لگانے کی ہو اور کوئی شخص وہاں خضاب لگانے سےمشہورہوجاتا ہو تو اُس کے لیے زیادہ بہتر یہی ہے کہ وہ خضاب نہ لگائے‘‘۔
لہذا صورت ِ مسئولہ میں جس شخص کے بالوں کی سفیدی بدنما معلوم ہورہی ہو تو اُس کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ اُنہیں خضاب لگائے،اور جس شخص کے بالوں کی سفیدی بدنما معلوم نہ ہورہی ہوتو اُس کےلیے مناسب یہی ہے کہ وہ اُنہیں خضاب نہ لگائے، البتہ مطلقاً (ہر حالت میں )خضاب لگانازیادہ بہتر ہے، کیوں کہ اِس میں یہودونصاری کی مخالفت کرنےکے حکم کی بجا آوری ہے،تاہم اگر کسی جگہ لوگوں کی عادت خضاب نہ لگانے کی ہو اور کوئی شخص وہاں خضاب لگانے سےمشہورہوجاتا ہو تو اُس کے لیے زیادہ بہتر یہی ہے کہ وہ خضاب نہ لگائے۔
"سنن الترمذي"میں ہے:
"حدّثنا قُتيبة، قال: حدّثنا أبو عَوانة عن عمر بن أبي سلَمة عن أبيه عن أبي هريرة-رضي الله عنه- قال: قال رسولُ الله -صلّى الله عليه وسلّم-: غيِّروا الشَّيْب ولا تَشبهَّوا باليهود.
( أبواب اللباس، باب ماجاء في الخضاب، ج: 3،ص: 284، رقم: 1752، ط: دار الغرب الإسلامي- بيروت)
"سنن النسائي"میں ہے:
"أخبرنا عبد الرحمن بن عبيد الله الحلَبي عن عُبيد الله وهو ابن عمرو عن عبد الكريم عن سعيد بن جُبير عن ابن عباسٍ-رضي الله عنه-، رفعه أنّه قال: قومٌ يخضِبون بهذا السَّواد آخرَ الزمان كحواصل الحمام، لا يَريحون رائحة الجنة".
( كتاب الزينة، النهي عن الخضاب بالسود، ج: 8،ص: 138، رقم:5075، ط: مكتب المطبوعات الإسلامية)
"الفتاوى الهندية"میں ہے:
"اتفق المشايخ -رحمهم الله تعالى- أنّ الخِضاب في حق الرجال بالحُمرة سنةٌ وأنّه مِن سِيماء المسلمين وعلاماتِهم. وأمّا الخِضاب بالسّواد فمن فعل ذلك من الغُزاة ليكون أهْيب في عين العدوِّ فهو محمودٌ منه، اتفق عليه المشايخ -رحمهم الله تعالى- ومن فعل ذلك ليُزيّن نفسه للنِساء وليُحبِّب نفسه إليهنّ فذلك مكروهٌ، وعليه عامّة المشايخ، وبعضهم جوّز ذلك من غير كراهةٍ، ورُوي عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنّه قال كما يُعجبني أن تتزيِّن لي يُعجبها أن أتزيّن لها كذا في الذخيرة".
( كتاب الكراهية، الباب العشرون في الزينة ... إلخ، ج: 5،ص: 359، ط:دار الفكر)
"المحيط البرهاني في الفقه النعماني "میں ہے:
"اعلم بأن الزينة نوعان: نوع يرجع إلى البدن، ونوع يرجع إلى غيره، نبدأ بالذي يرجع إلى البدن، فنقول اتفق المشايخ أن الخضاب في حق الرجال بالحمرة سنة، وأنه من سير المسلمين وعلاماتهم، والأصل فيه قوله عليه السلام: «غيروا الشيب ولا تشبهوا باليهود» وقال الراوي: رأيت أبا بكر على منبر رسول الله عليه السلام ولحيته كأنها صرام عرفج، والعرفج اسم لبنت في البادية هي أشد حمرة من النار.
وأما الخضاب بالسواد: فمن فعل ذلك من الغزاة ليكون أهيب في عين العدو فهو محمود منه، اتفق عليه المشايخ، ومن فعل ذلك ليزين نفسه للنساء، وليحبب نفسه إليهن فذلك مكروه عليه عامة المشايخ. وبنحوه ورد الأثر عن عمر رضي الله عنه، وبعضهم جوزوا ذلك من غير كراهية، روي عن أبي يوسف أنه قال: كما يعجبني أن تتزين لي يعجبها أن أتزين لها، هذه الجملة من شرح «السير الكبير»."
( كتاب الاستحسان و الكراهية، الفصل الحادي والعشرون في الزينة، واتخاذ الخادم للخدمة، ج: 5، ص: 277، ط: دار الكتب العلمية)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144603102517
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن