بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

صفحات سے مقدس نام مٹاکر بقیہ صفحہ ضائع کرنا درست ہے


سوال

میں کمپیوٹر آپریٹر کی نوکری کرتا ہوں اور روزانہ کی بنیاد پر بہت سے لوگوں کے نام خطوط لکھتا ہوں، یعنی محمد، علی، عثمان وغیرہ اس لیے تمام صفحات رکھنا مشکل ہے،  تو میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا میں ان ناموں کو قلم کے ذریعے رگڑکر  مٹادوں ، اور پھر ضائع کروں، تو یہ درست ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ عمل یعنی ناموں کو مٹاکر بقیہ صفحات ضائع کرنا اور کسی دوسرے کام میں لانا جائز ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولا يجوز لف شيء في كاغد فيه مكتوب من الفقه، وفي الكلام الأولى أن لا يفعل، وفي كتب الطب يجوز، ولو كان فيه اسم الله تعالى أو اسم النبي - صلى الله عليه وآله وسلم -، ويجوز محوه ليلف فيه شيء، كذا في القنية."

(كتاب الكراهية، الباب الخامس في آداب المسجد والقبلة والمصحف وما كتب فيه شيء من القرآن، ج:5، ص:322، ط:رشيدية)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101554

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں