
میرا کیمیکلز کا کام ہے۔ میں جب کسی ہوٹل،ہسپٹل یا کمپنی میں مال دیتا ہوں تو وہاں کے صفائی کرنے والے کہتے ہیں کہ جب تک ہم تمھارا مال پاس نہ کریں تجھ سے کوئی مال نہیں لے گا۔ لہٰذا وہ پہلے مجھ سے ریٹ کر لیتے ہیں، مثلاً 90 روپے فی کلو، اور پھر آگے مالک کو زیادہ بتاتے ہیں، مثلاً 130روپے، اور مجھے یہ بھی بولتے ہیں کہ مالک کو 130 والا ریٹ بتاؤ۔
اور کبھی کسی جگہ پہلے سے ایک بندہ مال دے رہا ہوتا ہے، وہ بندہ مجھے کہتا ہے آپ میرا حصہ رکھو، میں آپ کا مال چلاوں گا۔"
سوال یہ ہے:
کیا یہ درست ہے یا نہیں؟ اور کوئی ایسی صورت جو جائز بھی ہو اور اس میں ان کا خرچہ وغیرہ نکل آئے، وہ کیا ہے؟
1۔واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی کمپنی،ہسپتال یاہوٹل میں تنخواہ کے عوض ملازمت اختیار کرتا ہے، تو اسی کمپنی،ہسپتال یا ہوٹل کے لیے کوئی کام کرنے کے عوض کمیشن لینا دھوکہ دہی ،جھوٹ اوررشوت کے زمرہ میں آتا ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں جو ملازم کمپنی کی طرف سے مذکورہ کام پر مامور ہیں اور وہ کام ان کے فرائضِ منصبی میں شامل ہے اور اس کام کی تنخواہ بھی وہ وصول کرتےہیں ، تو ان ملازمین کے لیے اس کام پر نفع / کمیشن رکھناشرعاً جائز نہیں ہے، کیوں کہ مذکورہ صورت میں ملازمین کی حیثیت وکیل کی ہے اور وکیل امین کے حکم میں ہوتا ہے،جب کہ وکیل کے لیے اپنی اجرت / تنخواہ کے علاوہ مزید کسی قسم کا کمیشن وغیرہ لینا جائز نہیں ہے، باقی اب تک اگر ملازمین نے کوئی کمیشن / نفع لیا ہو تو وہ کمپنی،ہسپتال ،ہوٹل کو واپس کرنا ضروری ہوگااورسائل کے لیے اپنے مال کا آرڈر حاصل کرنے کے لئےکمپنی کے ملازمین کو کچھ رقم دینا کسی بھی عنوان سے شرعا ناجائز ہے۔
2۔اگر دکاندار کسی جگہ پہلے سے اپنا مال سپلائی کرتا ہو، اور وہی دکان دار سائل کا مال بھی وہاں فروخت کروادے، تو سائل کے مال کو فروخت کرنےپر باہمی رضامندی سے متعین کمیشن لینا دکان دار کے لیے شرعاً جائز ہے۔
سنن ابو داؤد میں ہے:
"عن عبد الله بن عمرو، قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي."
(کتاب الاقضیۃ، باب فی کراہیۃ الرشوۃ، ج:3، ص:300، ط:المکتبۃ العصریۃ )
فتح القدیر میں ہے:
"وفي شرح الأقطع: الفرق بين الرشوة والهدية أن الرشوة يعطيه بشرط أن يعينه، والهدية لا شرط معها."
(کتاب ادب القاضی،ج:7،ص:272،مطبعة مصطفي بابي حلبي)
درر الحکام میں ہے :
"(إذا شرطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة، وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا. فليس له أن يطالب بالأجرة) يستحق في الإجارة الصحيحة الأجرة المسمى. وفي الفاسدة أجر المثل۔۔۔۔لكن إذا لم يشترط في الوكالة أجرة ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا، وليس له أن يطلب أجرة. أما إذا كان ممن يخدم بالأجرة يأخذ أجر المثل ولو لم تشترط له أجرة".
(الکتاب الحادی عشر الوکالۃ،ج:3،ص:573،دارالجیل)
شرح المجلۃ میں ہے:
"(المال الذي قبضه الوكيل بالبيع والشراء وإيفاء الدين واستيفائه وقبض العين من جهة الوكالة في حكم الوديعة في يده فإذا تلف بلا تعد ولا تقصير لا يلزم الضمان. والمال الذي في يد الرسول من جهة الرسالة أيضا في حكم الوديعة) . ضابط: الوكيل أمين على المال الذي في يده كالمستودع."
(كتاب الوكالة، الباب الثالث في بيان احكام الوكالة، ج:3، ص:561، ط:دارالجيل)
فتاوی شامی میں ہے:
"وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية.
(قوله: فأجرته على البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري؛ لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانية وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا؛ لأنه لا وجه له. (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين."
(كتاب البيوع، فروع فى البيع، ج:4، ص:560، ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705101811
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن