
کیا صدقہ کی رقم مسجد میں دے سکتے ہیں یا نہیں؟صدقہ کس کا حق ہے ؟ کیا صدقہ کی رقم غریب مستحق کو دینی چاہیے؟
واضح رہے کہ صدقہ کی بنیادی طور پر تین قسمیں ہیں:
(1) فرض، جیسے زکات۔
(2) واجب، جیسے نذر، صدقہ، فطر وغیرہ۔
(3) نفلی صدقات، جیسے عام خیرات۔
زکات اور صدقاتِ واجبہ (صدقہ فطر وغیرہ) صرف مستحقِ زکات افراد کو ہی دیے جاسکتے ہیں، اور شرعی اعتبار سے مستحقِ زکات افراد وہ مسلمان ہیں جو نہ بنی ہاشم (سید وں یا عباسیوں وغیرہ) میں سے ہوں اور نہ ہی ان کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا، یاساڑھے باون تولہ چاندی ہو، نہ ہی ساڑھے باون تولہ چاندی کی موجودہ قیمت کے برابر نقد رقم یا مال تجارت یا اس مالیت کے برابر ضرورت و استعمال سے زائد سامان موجود ہو۔
لہٰذا جس شخص کے پاس ضرورت سے زائد اتنا سامان یا مال موجود ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی تک پہنچتی ہو وہ شرعاً مال دار ہے، اور مال دار کو زکات دینا جائز نہیں ہے۔
اسی طرح زکات و صدقات واجبہ اپنے اصول ( والدین، دادا، دادی، نانا، نانی وغیرہ) اورفروع (بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی، نواسہ، نواسی وغیرہ)کو بھی نہیں دی جاسکتی ہے۔
نیز : زکات یا واجب صدقات کسی فقیر کو کسی بھی چیز یا کام کے معاوضے کے بغیر مالک بناکر دینا بھی ضروری ہے، لہٰذا تنخواہ میں زکات یا واجب صدقہ دینا جائز نہیں ہے، اسی طرح زکات اور واجب صدقات سے کسی قسم کی تعمیرات کرنا بھی درست نہیں ہے، الا یہ کہ کسی فقیر کو مالک بنا دیا جائے اور وہ اپنی مرضی سے اس رقم سے تعمیرات کرے یا کروائے۔
جب کہ نفلی صدقات کسی بھی خیر کے کام میں ( تعمیرِ مساجد وغیرہ میں ) صرف کیے جاسکتے ہیں ، اس میں تملیک بھی شرط نہیں ہے اور مال دار اور اصول و فروع کو بھی نفلی صدقہ دیا جاسکتا ہے، بلکہ نفلی صدقہ میں افضل یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین اور قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرے، جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھا کہ ہم کیا خرچ کریں اور کس پر خرچ کریں؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
"{يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلْ مَا أَنفَقْتُم مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا تَفْعَلُواْ مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللّهَ بِهِ عَلِيمٌ} ."
یعنی لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خیرات کریں اور صدقہ دیں؟ کہہ دیجیے کہ جو مال بھی تم صرف کرنا چاہو ، سو وہ ماں، باپ، عزیزوں، یتیموں، مساکین اور مسافروں پر خرچ کرو، اور جو مال بھی تم خرچ کروگے اللہ تعالیٰ اس سے ضرور باخبر ہیں۔
تفسير البغوي المسمى بمعالم التنزيل میں ہے :
"قوله تعالى:{يسألونك ماذا ينفقون}[البقرة: 215] «نزلت في عمرو بن الجموح وكان شيخا كبيرا ذا مال فقال: يا رسول الله بماذا نتصدق وعلى من ننفق؟ فأنزل الله تعالى:{يسألونك ماذا ينفقون}[البقرة: 215] »".
(1/ 82،ط: بیروت)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
" لايجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار، والحج والجهاد، وكل ما لا تمليك فيه، ولا يجوز أن يكفن بها ميت، ولا يقضى بها دين الميت كذا في التبيين."
(کتاب الزکاة، الباب السابع فی المصارف،1/ 188، ط؛ رشیدیه)
فتاوی شامی میں ہے :
"(وصدقة الفطر كالزكاة في المصارف) وفي كل حال.
(قوله: في المصارف) أي المذكورة في آية الصدقات إلا العامل الغني فيما يظهر و لاتصح إلى من بينهما أولاد أو زوجية ولا إلى غني أو هاشمي ونحوهم ممن مر في باب المصرف، وقدمنا بيان الأفضل في المتصدق عليه."
(کتاب الزکوۃ، 2/ 368، ط : سعید)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما صدقة التطوع فیجوز صرفها إلی الغنی لأنها تجري مجری الهبة".
(کتاب الزکوۃ، 2/48، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708100730
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن