بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

صدقہ نافلہ میں متعدد نیتیں کرنا


سوال

 میں نے ایک ترتیب بنائی ہوئی ہے کہ اپنے کاروبار میں سے جو رقم گھر کے خرچ کے لیے لیتا ہوں اس کا دس فیصد اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہوں، جاننا چاہتا ہوں کے فرض صدقات جیسے زکات اور صدقہ فطر کا حساب الگ ہوتا ہےتو کیا نفلی صدقات کا بھی الگ حساب کرنا ہوگا یا اسی دس فیصد میں سے ادا کیے جاسکتے ہیں؟ مثلاً بچے کے عقیقہ کی رقم، یا کوئی اور صدقات وغیرہ تو کیا صدقہ میں متعددنیتیں کرنا درست ہیں؟

جواب

نفلی عبادات نماز وغيره  میں متعدد نیتیں کرنا جائز ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل جو دس فیصد نفلي صدقہ ادا کرتے ہیں ،اس میں اگر وہ متعدد نیتیں کرتے ہیں تو ان کا متعدد نیتیں کرنا جائز ہے، صدقات نافلہ کا الگ الگ حساب کرنا ضروری نہیں۔

الفقه الإسلامي وأدلته میں ہے:

«قال الحنفية: إما أن يكون الجمع بين العبادتين في الوسائل أو في المقاصد.

فإن كان في الوسائل، فإن الكل صحيح، كما لو اغتسل الجنب يوم الجمعة للجمعة ولرفع الجنابة، ارتفعت جنابته وحصل له ثواب غسل الجمعة. ومثله لو نوى الغسل للجمعة والعيد، فإنهما يحصلان.

(‌‌مقدمات ضرورية عن الفقه، ‌‌المطلب الثاني عشر ـ النية والباعث في العبادات والعقود والفسوخ والتروك، ج: 1، ص: 185، ط: دار الفكر)

الموسوعة الفقهية الكويتيةمیں ہے:

التشريك في النية:اختلف الفقهاء في حكم التشريك في النية، ولهم في ذلك تفصيل:

قال الحنفية: الجمع بين عبادتين إما أن يكون في الوسائل أو في المقاصد، فإن كان في الوسائل فإن الكل صحيح، قالوا: لو اغتسل يوم الجمعة للجمعة ولرفع الجنابة ارتفعت جنابته وحصل له ثواب غسل الجمعة.

(نية، ‌‌أولا: الأحكام الشرعية العامة للنية، ج: 42، ص: 90، ط: دارالسلاسل)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144705100226

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں