
آج کل اس طرح لکھا ہوا نظر سے گزر رہا ہے کہ پنیر/چیز (cheese) (خشک دہی / أقِط) سے بھی صدقہ فطر ایک صاع دیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ ہم نے فقہ کی جو کتابیں وغیرہ پڑھی ہیں، ان میں صدقہ فطر کے حوالے سے صرف چار چیزوں (گندم، جو، کھجور، کشمش) کا ہی ذکر ملتا ہے، پنیر کا ذکر ان میں نہیں تھا۔ براہ کرم شریعت مطہرہ کی روشنی میں درج ذیل باتوں کی رہنمائی فرمائیں: کیا فقہ حنفی کے مطابق پنیر سے صدقہ فطر ادا کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ اگر پنیر سے دیا جا سکتا ہے، تو کیا اس کی مقدار ایک صاع ہوگی یا آدھا صاع؟ جن احادیث میں پنیر (أقِط) سے صدقہ فطر دینے کا واضح ذکر ہے، فقہ حنفی کی روشنی میں ان کی کیا تشریح ہے اور ہماری فقہ کی مستند کتابوں میں عموماً اس کا ذکر کیوں نہیں ملتا؟
واضح رہے کہ فقہ حنفی کی رو سے چار چیزوں (گندم، جو، کھجور، کشمش) کے ذریعے صدقہ فطر ادا کیا جاسکتا ہے، اس کے علاوہ کسی اور چیز کو صدقہ فطر کے لیے معیار نہیں بنایا گیا، تاہم امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک پنیر کے ذریعہ بھی صدقہ فطر ادا کیا جاسکتا ہے، البتہ یہ بات ملحوظ رہے کہ صدقہ فطر میں بعینہ ان چار چیزوں کو ہی دینا ضروری نہیں ہے، بلکہ ان چار میں سے کسی ایک کی قیمت یا اس قیمت کی کوئی اور چیز بھی دی جاسکتی ہے، اس اعتبار سے اگر ان چار چیزوں میں سے کسی ایک کی قیمت کے برابر اگر کوئی پنیر ادا کردے، تو اس سے بھی صدقہ فطر ادا ہوجائے گا۔
مبسوط سرخسی میں ہے:
"وإن أراد الأداء من سائر الحبوب أعطى باعتبار القيمة وقد بينا جواز أداء القيمة عندنا، وهذا؛ لأنه ليس في سائر الحبوب نص على التقدير فالتقدير بالرأي لا يكون وكذا من الأقط يؤدي باعتبار القيمة عندنا، وقال مالك - رضي الله عنه -: يتقدر من الأقط بصاع وقال الشافعي - رحمه الله تعالى - في كتابه لا أحب له الأداء من الأقط وإن أدى فلم يتبين لي وجوب الإعادة عليه وهذا الحديث روي «أو صاعا من أقط» وبه أخذ مالك - رحمه الله تعالى - وقال الأقط: كان قوتا لأهل البادية في ذلك الوقت كما أن الشعير والتمر كانا قوتا في أهل البلاد وأصحابنا قالوا: الحديث شاذ لم ينقل في الآثار المشهورة وبمثله لا يجوز إثبات التقدير فيما تعم به البلوى فيبقى الاعتبار بالقيمة فإن كانت قيمته قيمة نصف صاع من بر أو صاع من شعير جاز وإلا فلا والحاصل أن فيما هو منصوص لا تعتبر القيمة حتى لو أدى نصف صاع من تمر تبلغ قيمته قيمة نصف صاع من بر لا يجوز؛ لأن في اعتبار القيمة هنا إبطال التقدير المنصوص في المؤدى، وذلك لا يجوز فأما ما ليس بمنصوص عليه فإنه ملحق بالمنصوص باعتبار القيمة إذ ليس فيه إبطال التقدير المنصوص وسويق الحنطة كدقيقها؛ لأن التقدير منه نصف صاع لما بينا في الدقيق، والله تعالى أعلم بالصواب."
(كتاب الصوم، ج:3، ص:114، ط:دار المعرفة)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144709102363
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن