
میری والدہ کے انتقال کے بعد مجھے ان کے ترکہ میں کچھ زیورات ملے۔ میں نے ان زیورات کو صدقہ کرنے کی نیت کر لی تھی اور اسی نیت کے ساتھ میں وقتاً فوقتاً ان کی طرف سے صدقہ و خیرات بھی کرتا رہتا ہوں۔ تاہم، وہ زیورات ابھی تک صدقہ نہیں کیے گئے، بلکہ میں اس انتظار میں ہوں کہ میرے ماموں کی بیٹیوں کی شادی ہو تو ان کی مدد کے لیے یہی زیورات صدقہ کر دوں۔
اب سوال یہ ہے کہ جب تک یہ زیورات میرے پاس موجود ہیں اور ابھی تک صدقہ نہیں کیے گئے، کیا ان پر زکوٰۃ واجب ہوگی یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں سائل اگر پہلے سے صاحبِ نصاب ہو ، یا مذکورہ زیورات نصاب زکوٰۃ (ساڑھے سات تولہ سونا/اگر چاندی کے ہوں، تو ساڑھے باون تولہ چاندی) کے بقدر ہوں، تو زکوٰۃ کا سال مکمل ہونے پر مذکورہ زیورات کی زکوٰۃ ادا کرنا سائل پر لازم ہوگا،کیوں کہ مذکورہ زیورات کے بارے میں صدقہ کرنے کی محض نیت کرلینا زکوٰۃ کے ساقط ہونے کے لیے شرعاً ناکافی ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"أن الزكاة تجب في النقد كيفما أمسكه للنماء أو للنفقة، وكذا في البدائع في بحث النماء التقديري."
(كتاب الزكوة،ج:2،ص:262،ط:سعيد)
وفيه أيضاً:
" (واللازم) مبتدأ (في مضروب كل) منهما (ومعموله ولو تبرا أو حليا مطلقا) مباح الاستعمال أو لا ولو للتجمل والنفقة؛ لأنهما خلقا أثمانا فيزكيهما كيف كانا (أو) في (عرض تجارة قيمته نصاب)ـ"
(كتاب الزكاة، باب زكاة المال، ج: 2، ص: 298، ط: سعيد)
وفيه أيضاً:
"(نصاب الذهب عشرون مثقالا والفضة مائتا درهم...(واللازم) مبتدأ (في مضروب كل) منهما (ومعموله ولو تبرا أو حليا مطلقا) مباح الاستعمال أو لا ولو للتجمل والنفقة؛ لأنهما خلقا أثمانا فيزكيهما كيف كانا (أو) في (عرض تجارة قيمته نصاب) الجملة صفة عرض وهو هنا ما ليس بنقد، (من ذهب أو ورق) أي فضة مضروبة، فأفاد أن التقويم إنما يكون بالمسكوك عملا بالعرف (مقوما بأحدهما) إن استويا، فلو أحدهما أروج تعين التقويم به؛ ولو بلغ بأحدهما نصابا دون الآخر تعين ما يبلغ به، ولو بلغ بأحدهما نصابا وخمسا وبالآخر أقل قومه بالأنفع للفقير سراج (ربع عشر) خبر قوله اللازم."
(كتاب الزكاة، باب زكاة المال، ج:2، ص:299، سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144711101364
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن