
صدقہ فطر کا مصرف وہی ہے جو زکاۃ کا مصرف ہے، اور صدقہ فطر اور زکاۃ کے مستحق وہ افراد ہیں جو نہ بنی ہاشم (سید وں یا عباسیوں وغیرہ) میں سے ہوں اور نہ زکات دینے والے کے اصول اور فروع میں سے ہو اور نہ ہی ان کے پاس ضرورت و استعمال سے زائد اتنا مال یا سامان موجود ہو جس کی مالیت نصاب (ساڑھے سات تولہ سونا، یاساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی موجودہ قیمت) تک پہنچے۔ ایسے افراد کو زکاۃ اور صدقہ فطر دیاجاسکتا ہے ۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جس طرح زکاۃ اپنے اصول (والدین، دادا، دادی، نانا، نانی وغیرہ) اور فروع (بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی، نواسہ، نواسی وغیرہ) کو دینا جائز نہیں، اسی طرح صدقۂ فطر بھی انہیں دینا جائز نہیں ہے۔ البتہ ان کے علاوہ دیگر رشتہ دار مثلاً بھائی، بہن، خالہ، چچا، چچی وغیرہ اگر مستحقِ زکاۃ ہوں تو انہیں صدقہ فطر دیا جا سکتا ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(وصدقة الفطر كالزكاة في المصارف) وفي كل حال (إلا في) جواز (الدفع إلى الذمي) وعدم سقوطها بهلاك المال وقد مر۔
(قوله: إلا في جواز الدفع إلى الذمي) في الخانية جاز ويكره. وعند الشافعي وإحدى الروايتين عن أبي يوسف لا يجوز تتارخانية وقدم عن الحاوي أن الفتوى على قول أبي يوسف."
(کتاب الزکاۃ،باب صدقۃ الفطر،ج؛2،ص:368،ط:سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"و لايدفع إلى أصله، وإن علا، وفرعه، وإن سفل كذا في الكافي."
(کتاب الزکاۃ، ج: 1 ،ص:188، ط: دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708102411
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن