بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

صدقہ فطر کی رقم کن کن لوگوں کو دینا جائز ہے؟ کیا بیٹے کو صدقہ فطردیناجائزہے؟


سوال

 صدقہ فطر کی رقم کن کن لوگوں کو دینا جائز ہے؟ کیا خونی رشتوں میں یہ رقم دی جا سکتی ہے؟ مثال کے طور پر اگر کوئی بیٹا بے روزگار ہو تو کیا اسے بھی دیا جا سکتا ہے؟

جواب

 صدقہ فطر کا مصرف وہی ہے جو زکاۃ کا مصرف ہے، اور صدقہ فطر اور زکاۃ کے مستحق  وہ افراد ہیں جو  نہ بنی ہاشم (سید وں یا عباسیوں وغیرہ) میں سے ہوں اور نہ زکات دینے والے کے اصول اور فروع میں سے ہو اور نہ ہی ان کے پاس ضرورت و استعمال سے زائد اتنا مال یا سامان موجود ہو جس کی مالیت نصاب (ساڑھے سات تولہ سونا، یاساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی موجودہ قیمت)  تک پہنچے۔ ایسے افراد کو زکاۃ اور صدقہ فطر دیاجاسکتا  ہے ۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جس طرح زکاۃ اپنے اصول (والدین، دادا، دادی، نانا، نانی وغیرہ) اور فروع (بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی، نواسہ، نواسی وغیرہ) کو دینا جائز نہیں، اسی طرح صدقۂ فطر بھی انہیں دینا جائز نہیں ہے۔ البتہ ان کے علاوہ دیگر رشتہ دار مثلاً بھائی، بہن، خالہ، چچا، چچی وغیرہ اگر مستحقِ زکاۃ ہوں تو انہیں صدقہ فطر دیا جا سکتا ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وصدقة الفطر كالزكاة في المصارف) وفي كل حال (إلا في) جواز (الدفع إلى الذمي) وعدم سقوطها بهلاك المال وقد مر۔

(قوله: إلا في جواز الدفع إلى الذمي) في الخانية جاز ويكره. وعند الشافعي وإحدى الروايتين عن أبي يوسف لا يجوز تتارخانية وقدم عن الحاوي أن الفتوى على قول أبي يوسف."

(کتاب الزکاۃ،باب صدقۃ الفطر،ج؛2،ص:368،ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"و لايدفع إلى أصله، وإن علا، وفرعه، وإن سفل كذا في الكافي."

(کتاب الزکاۃ، ج: 1 ،ص:188، ط: دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708102411

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں