
12سال میں نکاح کرنا کیسا ہے؟
واضح رہےکہ شریعت میں نکاح کے لیےعمرکی کوئی حد مقرر نہیں ہے،بلکہ عمر کے کسی بھی حصے میں لڑکے یا لڑکی کا نکاح ہوسکتا ہے، البتہ بلوغت سے پہلے لڑکا یا لڑکی خود نکاح کا عقد نہیں کرسکتے، بلکہ ان کا ولی (والد یا دادا وغیرہ) ان کے مصالح کو مدنظر رکھ کر نکاح کرسکتاہے، ولی کے علاوہ کسی اور نے بلوغت سے پہلے بچے یا بچی کا نکاح کرادیا تو وہ بلوغت کے بعد لڑکے یا لڑکی کی اجازت پر موقوف ہوگا،لہذا بارہ (12)سال کی عمر میں مذکورہ تفصیل کے مطابق شرعانکاح کرناصحیح ہے۔
قرآن مجید میں ہے:
" وَاللاَّئِي يَئِسْنَ مِنْ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنْ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللاَّئِي لَمْ يَحِضْنَ وَأُوْلاتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْراً ﴿۴﴾"
ترجمہ:
تمہاری (مطلقہ ) بیبیوں میں جو عورتیں (بوجہ زیادت سن کے ) حیض آنے سے مایوس ہوچکی ہیں، اگر تم کو (ان کی عدّت کی تعیین میں ) شبہ ہو ،تو ان کی عدّت تین مہینے ہیں، اور اسی طرح جن عوتوں کو (اب تک بوجہ کم عمری کے ) حیض نہیں آیا ،اور حاملہ عورتوں کی عدّت اس حمل کا پیدا ہوجانا ہے، اور جو شخص اللہ سے ڈرے گا اللہ تعالیٰ اس کے ہر کام میں آسانی کردے گا ۔( بیان القرآن)
تفسیر معارف القرآن میں ہے:
عدت طلاق کے متعلق نواں حکم : عدت طلاق عام حالات میں تین حیض پورے ہیں ،جس کا بیان سورۃ بقرہ میں ہو چکا ہے، لیکن وہ عورتیں جن کو عمر کی زیادتی، یا کسی بیماری وغیرہ کے سبب حیض آنا بند ہو چکا ہو،اسی طرح وہ عورتیں جن کو کم عمری کے سبب ابھی تک حیض آنا شروع نہ ہوا ہو ،ان کی عدت آیت مذکورہ میں تین حیض کے بجائے تین مہینے مقرر فرمادی ،اور حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل قرار دی ہے ،خواہ وہ کتنے ہی دنوں میں ہو ۔
ــ(ج:8، ص:475، ط: مکتبہ معارف القرآن کراچی)
صحيح البخاری میں ہے:
"حدثنا معلى بن أسد قال: حدثنا وهيب، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة: أن النبي صلى الله عليه وسلم تزوجها وهي بنت ست سنين، وبنى بها وهي بنت تسع سنين."
(باب إنكاح الرجل ولده الصغار ، ج:7، ص:17،ط:دار طوق النجاة - بيروت)
فتح الباری میں ہے:
"قوله لقول الله تعالى واللائي لم يحضن فجعل عدتها ثلاثة أشهر قبل البلوغ أيفدل على أن نكاحها قبل البلوغ جائز وهو استنباط حسن لكن ليس في الآية تخصيص ذلك بالوالد ولا بالبكر ويمكن أن يقال الأصل في الأبضاع التحريم إلا ما دل عليه الدليل وقد ورد حديث عائشة في تزويج أبي بكر لها وهي دون البلوغ فبقي ما عداه على الأصل ولهذا السر أورد حديث عائشة قال المهلب أجمعوا أنه يجوز للأب تزويج ابنته الصغيرة البكر ولو كانت لا يوطأ مثلها."
( ج:9، ص:190، ط:المكتبة السلفية - مصر)
فقط واللہ اعلم.
فتویٰ نمبر : 144710100385
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن